اصحاب احمد (جلد 7) — Page 155
155 پر میرا یقین اور ایمان بڑھتا گیا۔ج : چنانچہ اسی قسم کا ایک اور واقعہ بھی مجھے جنوری ۱۹۰۱ء میں پیش آیا کہ وہی حسین شاہ پٹواری کہیں سے ایک اشتہار مطبوعہ لے آیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام کی عبارتوں کو آگے پیچھے سے کاٹ چھانٹ کر ان کے مفہوم اور منشا کو بگاڑ کر اسی غرض سے شائع کیا گیا تھا کہ لوگوں کو حضرت صاحب کے عقائد کے متعلق غلط فہمی میں ڈالا جائے اور خلاف اسلام عقائد حضرت صاحب کی طرف منسوب کئے جائیں۔غالباً وہ اشتہار ملک محمد دین صاحب تاجر کتب لاہور نے چھپوایا ہوا تھا۔حسین شاہ پٹواری نے وہ اشتہار ہمارے گاؤں کی مسجد میں اور ادھر ادھر تر کھانوں اور موچیوں وغیرہ کی دوکانوں پر جہاں لوگوں کا مجمع مل جاتا سنانا شروع کیا۔یہاں تک کہ میرے کانوں تک بھی وہ باتیں پہنچائی گئیں۔اگر چہ مجھے گزشتہ تجربہ کی بناء پر یہ بھی خیال آتا تھا کہ اس میں کوئی نہ کوئی عقدہ اور پیچیدگی ہوگی جس سے یہ لوگ غلط فہمی پیدا کر لیتے ہیں۔لیکن چونکہ ان عبارتوں کے ساتھ کتاب کا صفحہ وغیرہ بھی حوالہ کے طور پر تحریر کیا ہوا تھا۔اس لئے حیرانی اور تعجب ضرور ہوالہذ اقرار پایا کہ یہ حوالے اصل کتاب سے نکال کر دیکھے جائیں چنانچہ خاص آدمی کوٹ قاضی میں قاضی ضیاء الدین صاحب کے پاس بھیج کر ازالہ اوہام منگوائی گئی اور مسجد میں ایک بڑے مجمع کے روبرو اس اشتہار کو پڑھا گیا اور اس میں درج شدہ حوالہ جات اصل کتاب سے نکال کر پڑھے گئے تو صاف ظاہر ہو گیا کہ مشتہر نے از راه خیانت و افتراء مفہوم کو تبدیل کر کے غلط فہمی پیدا کی ہے لیکن اس گفتگو اور تحقیقات سے جاہل پبلک پر الٹا اثر ہوا اور وہ اصلیت سے قطع نظر کر کے میرے متعلق صرف یہ خیال لے کر اٹھے کہ یہ شخص اب پکے طور پر مرزائی ہو گیا ہے اور اب اس کو کچھ سمجھا نالا حاصل ہے۔اس کے بعد انہوں نے ایک جمعہ کے دن میری عدم موجودگی میں قریب کے ایک گاؤں کوٹ بھوانی داس سے ایک اہل حدیث مولوی احمد علی کو بلایا اور گاؤں کے باہر کھلی جگہ میں کئی ایک دیہات کے لوگوں کو اکٹھا کر کے بھاری مجمع کے ساتھ مولوی مذکور سے جمعہ پڑھوایا۔اثناء وعظ میں اس مولوی نے لوگوں کو علماء اسلام کا ایک مطبوعہ فتویٰ پڑھ کر سنایا اور اخیر پر مولویوں کی مہریں لگی ہوئی دکھلا کر کہا کہ دیکھو جس شخص پر اس قدر مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا ہو وہ یا اس کی پیروی کرنے والا کب مسلمان ہو سکتا ہے۔یہ کہہ کر لوگوں کو پیغام سلام کے ترک کرنے کی تاکید کی اور ہر طرح کے تعلقات قطع کر دینے کا فیصلہ سنا دیا جب میں شام کو گاؤں میں واپس آیا تو میں نے سب لوگوں کے طور بدلتے ہوئے دیکھے اور جن لوگوں کے ساتھ آباء اجداد سے ہمارے گہرے تعلقات رہ چکے تھے ان کی آنکھیں پھری ہوئی ملاحظہ کیں۔ہمارا پانی بھرنے والے ماشکیوں کو پانی بھرنے سے روک دیا گیا اور ہر طرح کا بائیکاٹ کر کے تکلیف دینا چاہا حتی کہ ایک دن جب کہ میں کہیں باہر گیا ہوا تھا۔گاؤں کے چند معتبر اشخاص کا ایک مجمع ہمارے گھر پر آیا اور ہماری ڈیوڑھی میں بیٹھ کر اندر سے میری والدہ صاحبہ مرحومہ کو بلایا۔وہ دروازے کے نزدیک آکر