اصحاب احمد (جلد 7) — Page 139
139 درد ماجرے کی کہانی موسم سرما میں چولہوں کے پاس بیٹھ بیٹھ کر آدھی آدھی رات تک سننے والیوں کو سنائیں اور انجام کاران کو روتے ہوئے بستروں پر پہنچا ئیں اور حال سے بے حال ہو کر اپنے بال نوچیں اور گریبان پھاڑ میں اور ظالموں کے حق میں کچھ کا کچھ کہیں۔(151) اسلام پر فدائیت اسلام پر آپ فدا تھے۔آپ فرماتے ہیں۔”ہم نے اسلام کو غور سے دیکھا اور تجربہ سے معلوم کیا۔بے شک اسے خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنے والا پایا اور خدا کو عملی اور مشہود اور محسوس طریق سے حی و قیوم اور متکلم پایا۔یہی وجہ ہے کہ ہم کسی طرح سے اسلام کو ترک نہیں کر سکتے۔( اول تو خدا آزمائش میں نہ ڈالے مگر بفضله و بتوفیقه اسلام کو ترک کرنے سے آگ میں زندہ جلایا جانا آسان سمجھتے ہیں إِلَّا أَنْ يَشَا الله اس بات کے ثبوت میں ہمارا یہ کہنا کافی ہے کہ ہم نے اپنے پیارے اور مہربان والدین اور بھائی بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کو صرف اسلام کی خاطر چھوڑا نہ کسی اور غرض کے لئے۔ہر ایک دانشمند جانتا ہے کہ وطن سے بے وطن یا اپنی جائے سکونت سے الگ ہو کر کالے پانی (عبور دریائے شور ) جانا اور اپنی جائیداد اور املاک منقولہ و غیر منقولہ سے دست بردار ہونا آسان کام نہیں ہے۔جو اپنے والدین کو ہمیشہ کے لئے ترک کرتا ہے جو کچھ اس کے دل پر گذرتا ہے وہی اس امر سے واقف ہے اور دوسروں کے لئے تو یہ صرف ایک کہانی ہو جاتی ہے۔مثنوی رقم کروں رنج اور غم کو میں کیا که خاموش ہے یاں زبان قلم ہوا جب کہ ماں باپ سے میں جدا نہ تھا کوئی میرا خدا کے سوا مری کس مپرسی کی حالت نہ پوچھ وہ تکلیف اور وہ صعوبت نہ عزیزوں کی فرقت کا تھا ایک عم ہوئی اس غربت ستم پر ستم کروں تنگ دستی کا میں ذکر کیا کہ تھا مفلسی کا مجھے آسرا