اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 138 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 138

138 ساتھ دوسروں کی معرفت مجھے کفر کی ترغیب دی گئی۔آخر کار تیسرے روز میں گھر سے رخصت ہوا۔لیکن ماں کی عجیب محبت ہوتی ہے اور حیرت آتی ہے کہ والدہ صاحبہ مجھے رخصت کرتے کرتے پانچ کوس تک برابر ساتھ ساتھ چلی آئی اور نہ چاہتی تھی کہ رخصت ہو۔آخر دل سے آہ کھینچ کر مجھ سے رخصت ہوئی (150) ” صاحبان یہ وہ باتیں ہیں جنھوں نے مجھے گھر سے بے گھر کر دیا اور گھر سے بجبر گھسیٹ کر سفر پر حذر میں رلایا اور اپنی پیاری والدہ کی چھاتی سے توڑ کر بیگانوں کے دروازوں پر در بدر کیا اور بجائے پدرانہ ناز ونعمت اور مادری شفقت کے بیگانوں کے جور و ستم کا تختہ مشق بنایا اور بے چاری عمر رسیدہ ضعیفہ والدہ ماجدہ کے آخری عمر کے گھنٹوں اور آرام طلب دموں کو درد انگیز آہوں اور فراق سے تلخ کیا اور اس کے سینہ بریاں اور چشم گریاں سے نہایت بے باکی کے ساتھ خون کے آنسو بہائے۔میں (نے) ان تمام امور اور شکایتوں کو جو لکھی گئیں اور آئندہ دو حصوں میں بفضلہ لکھی جاویں گی بہتوں کے پیش کیا اور بہتیری سماجوں میں اپنے والدین اور خویش و اقربا کے ان پر درد حالات کا جن کے تصور سے بھی انسان کا کلیجہ پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے واسطہ ڈال کر بھی ان امور اور اپنے مافی الضمیر کی عقدہ کشائی کرانی چاہی۔مگر میں نہایت تندی اور ترش روئی سے ہر ایک طرف سے راندہ گیا اور ہر ایک سماج سے دھکیلا گیا۔اور بعد ازاں بحالت مایوسی بایں غرض کہ کسی طرح اپنے والدین کے ملاپ سے ان کے کلیجہ میں ٹھنڈک پڑ جائے ہر ایک گلی میں گزرنے والے کے آگے اپنے آہ و نالہ کا دفتر کھول بیٹھتا اور ہر ایک گھر میں گھسنے والے کے خوفناک دہن کو ترساں لرزاں ہو کر پکڑ بیٹھتا اور اپنی مذکورہ بالا چند مشکلات اور باقی چند مسائل اور احقاق حق اور ابطال باطل کی خاطر نہایت تذلل و عجز انکساری اور فروتنی سے اس کی گرامی توجہ کو مبذول کرنا چاہتا۔مگر بجائے جواب باصواب کے ہر ایک سینہ پر کینہ سے درشتی اور طعنہ و تشنیع ( بیہودہ اعتراضات بر اسلام از کتب غیر مستند ) کے بد بودار الفاظ کا ہدیہ لے کر تشنہ آپ کی طرح اپنے والدین کے ملاپ کو دور سے مایوس ہو کر سراب کی طرح دیکھتا اور رنج والتہاب سے ہر ایک عزیز واقارب کے پر جوش محبت کے سیلاب کو محسوس کر کے اپنا کلیجہ تھام تھام کر سہارا دیتا اور بناوٹ سے بمشکل اپنی رونی صورت کو دور کر کے لوگوں میں بیٹھنے کے قابل ہوتا۔اور اپنی قوم کی حالت پر ملالت دیکھ دیکھ کر خود ہی رولیتا اور پاس بیٹھنے والوں کو اپنی چشم پر آب دکھا کر رلاتا۔اور اپنا دردناک قصہ سنا کر ان کے آنسو بہاتا اور ظالمانہ طور سے ان کے کلیجوں کو گویا قصابوں کی چھری سے چھیلتا تھا اور بعض اوقات ہندنی ماؤں کو اپنا حال سنا کر اور ان کی پوری محبت کو جوش میں لاکر ان کے پیار اور دلاسہ کو حاصل کرتا اور انہیں روتے ہوئے گھر بھیجتا مگر اپنے مقصود و مطلوب کو نہ پاتا۔میں اب اپنی اس حالت کو کہ آنکھوں۔سے آنسو جاری ہیں اور دل پر ہر طرح کے خیالات مستولی ہیں زیادہ طول نہیں دینا چاہتا کیونکہ ممکن ہے کہ بہتوں کے دلوں کو درد پہنچے اور ان کی آنکھیں خون روئیں اور بجائے فائدہ کے نقصان اٹھائیں اور بہت سی مائیں اس پر