اصحاب احمد (جلد 7) — Page 119
119 کیا کرتے ہوں گئے۔(125) ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ : مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بلا کر اپنے متعلقہ دفاتر کا چارج دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب اس بارہ میں رقم فرماتے ہیں کہ : مولوی محمد علی صاحب کو بخار ہوگیا۔انہوں نے ھبرا کر یہ سمجھا کہ انہیں طاعون ہو گیا ہے۔۔۔ان کے بدن سے سخت تپش آ رہی تھی۔میں نے کھڑکی میں سے ہاتھ اندر کر کے ان کے بدن پر لگایا تو بخار بہت شدید معلوم ہوا۔وہ وصیت کی باتیں کرنے لگے۔اسی اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے آپ نے ایک جذبے کے ساتھ اپنا ہا تھ مولوی محمد علی صاحب کے بازو پر مارا اور ہاتھ کو اٹھا کر نبض پر ہاتھ رکھا اور فرمایا آپ گھبراتے کیوں ہیں آپ کو تو بخار نہیں ہے۔اگر آپ کو طاعون ہو جائے تو میرا سلسلہ ہی جھوٹا سمجھا جائے۔چونکہ حضرت صاحب ایسا الہام شائع کر چکے تھے کہ اس گھر میں رہنے والے سب طاعون سے محفوظ رہیں گے۔سوائے ان کے جو متکبر ہوں اور مولوی محمد علی صاحب اس وقت گھر کے اندر رہتے تھے اس واسطے ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں طاعون سے محفوظ رکھے۔حضرت صاحب کے ایسا فرمانے پر میں نے تعجب کے ساتھ پھر کھڑکی میں سے ہاتھ بڑھایا تو دیکھا کہ فی الواقع بخار اتر ا ہوا تھا ، (126) ذیل ہے۔ماسٹر صاحب کی اسی طرح ایک اور روایت حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کے متعلق درج طاعون کے ایام میں ہی ایک روز حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کو بخار ہو گیا۔یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ قادیان میں ۲۴-۲۴ آدمی روز طاعون سے ہلاک ہوتے تھے اور جہاں کسی کو بخار ہوا سب نے یہی سمجھا کہ طاعون ہوگئی۔میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی کہ مولوی فضل الدین صاحب بہت گھبرا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے طاعون ہو گئی ہے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ: ”ہمارے گھر میں تو اب بالکل جگہ نہیں ہے۔چھوٹے سے گھر میں کئی خاندان گذر کر رہے ہیں آپ ان 66 کو کہیں کہ مسجد مبارک بھی ہمارے دار ہی میں شامل ہے۔اس میں آکر ڈیرہ لگالیں۔میں اسی وقت حکیم صاحب کے پاس گیا اور ان کا بستر وغیرہ خود اٹھا کر لے آیا وہ مسجد میں آکر لیٹ رہے۔قریباً عشاء کے وقت ان کو نیند آگئی اور وہ سو گئے۔صبح کو بخار کا نام ونشان نہ رہا اور حکیم صاحب تندرست ہو گئے۔یہ حضور کے احیاء موتی کی ایک اور مثال ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔( (127)