اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 118 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 118

118 تھکے۔اس دعا میں حضور کے آنسو جاری ہو گئے۔حضور نے دوا بھی دی اور پھر یہ بچہ پیدا ہوا اور خدا کے فضل سے زندہ ہے۔اس کے بعد لوگوں کو نسخہ دیا تو ان کو فائدہ نہ ہوا کیوں کہ دعا ساتھ نہ تھی (۳۹) حضور کو ۱۹۰۲ء میں الہام ہوا غَضِبْتُ غَضَباً شَدِيداً (123) ** فرمایا کہ: (124)(☆☆☆) طاعون زور سے پھیلے گی اور ہمارے مکان میں جو آجائیں گے۔خدا تعالیٰ ان کو طاعون سے محفوظ رکھے گا۔اس کے باوجود ( حضور ) برعایت اسباب کئی دفعہ مکان میں (دھونی وغیرہ کے لئے ) انگیٹھیاں سلگایا کرتے تھے۔ان ایام میں حضور کے مکان کے چاروں طرف طاعونی اموات ہوتی تھیں مگر حضور کے مکانوں میں طاعون سے چوہا تک بھی نہیں مرا ۱۹۰۳ء کے قریب حضور کو الہام ہوا کہ عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَ مُقَامُهَا میں نے عرض کی کہ میرا کنبہ محلہ خواجگان میں ہے جہاں طاعون کے کیس متواتر ہورہے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ہمارے گھر میں تو گنجائش نہیں ہے ادھر کسی مکان میں فروکش ہو جاؤ۔چنانچہ میں حکیم فضل دین صاحب ( بھیروی ) مرحوم کے مکان میں مہمان خانہ کے اوپر آ گیا۔ماسٹر صاحب کی ایک مطبوعہ روایت مولوی محمد علی صاحب کے متعلق نہایت ایمان افروز ہے بیان کرتے ہیں کہ: ان ہی دنوں ایک روز شام کو کسی نے آکر حضور علیہ السلام کو اطلاع دی کہ مولوی محمد علی صاحب کو طاعون ہوگئی ہے۔آپ نے فرمایا کہ وہ تو ہمارے دار میں رہتے ہیں ان کو طاعون کس طرح ہو سکتی ہے۔اگر مولوی محمد علی صاحب طاعون سے فوت ہو گئے تو سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں۔☆ حضور علیہ السلام اسی وقت مولوی محمد علی صاحب کی عیادت کو تشریف لائے اور نبض دیکھ کر فرمایا۔دیکھو اب بخار ہے ؟ جب مولوی صاحب کو ہاتھ لگا کر دیکھا گیا تو بخار کا نام ونشان بھی نہ تھا۔یہ حضور کا معجزہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزہ احیاء موتی کی مثل ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام اس سے بڑھ کر اور کیا مردے زندہ مکرم محترم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت و ناظر اعلیٰ قادیان نے خاکسار مؤلف کے استفسار پر فرمایا کہ حضرت حافظ صاحب اور ان کے سارے برادران کی سکونت ایک ہی گاؤں موضع تھے غلام نبی کی تھی اور یہ روایت گو میں نے پہلے نہیں سنی لیکن شیخ زین العابدین صاحب رضی اللہ تعالی عنہ ( مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) سے متعلق معلوم ہوتی ہے کیوں کہ ایک تو حضرت حافظ صاحب اور حضرت شیخ صاحب دو ہی بھائیوں کا حضرت مسیح موعود سے ابتداء میں گہرا تعلق تھا۔دوسرے بھائیوں کا تعلق بعد میں ہوا دوسرے یہ مرض انہی کی اہلیہ محترمہ کو تھی غالباً اس دعا سے ان کا بڑا بچہ بشیر احمد پیدا ہوا ہو گا جو اس وقت بھی زندہ ہیں۔یہ الہام ۱۹۰۲ میں ہوا۔دافع البلاء ص ۶ تا ۸ میں مندرجہ الہامات میں درج ہے اور طاعون کا وہاں ذکر موجود ہے۔یہ الہام پہلی اور دوسری بار جون ۱۹۰۴ء میں ہوا تھا اور زلزلہ کے بارے میں تھا۔چنانچہ ۱۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو ضلع کانگڑہ میں زلزلہ سے ہزار ہا مکانات اور جانیں تلف ہونے سے پورا ہوا۔ماسٹر صاحب نے اسے طاعون کے بارے میں سمجھا ہوگا۔