اصحاب احمد (جلد 7) — Page 88
88 تو وہ ان کے پیش کردہ معیار صداقت ( جو کہ حضرت اقدس کے مضامین مباہلہ ومقابلہ سے اخذ شدہ ہیں) کی روسے حضرت مرزا صاحب سے فیصلہ کر کے ان کا غلطی پر ہونا ثابت کر دیویں۔حضرت اقدس نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور کہا کہ مذہب کی غرض یہی نہیں ہے کہ صرف آئندہ جہان میں خدا سے فائدہ حاصل ہو بلکہ اس موجودہ جہاں میں بھی خدا سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے، ان لوگوں کے صرف دعوے ہی دعوے ہیں۔کوئی کام تو کل اور تقویٰ کا ان سے ثابت نہیں ہوتا۔مصیبت پڑے تو ہر ایک نا جائز کام کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔(79) اس اشتہار کے مضمون کی قدرے تفصیل درج کی جاتی ہے اس میں لکھا گیا تھا کہ ہم نے بعد تحقیق اسلام کو سچا پایا اور اسے قبول کر کے پیارے والدین اور دنیوی فوائد کو خیر باد کہا۔اگر ہم غلطی پر ہیں تو آریہ سماج کے بڑے پنڈتوں اور پر چارکوں سے استدعا ہے کہ وہ ہمیں اس سے آگاہ کریں۔ہمارے نزدیک اسلام میں جو فضائل ہیں دیگر مذاہب اس سے بے بہرہ ہیں مثلاً اول۔مسلمانوں میں ہمیشہ ایسے افراد مدعی رہے کہ مقابلتا اللہ تعالیٰ ان کی دعا سنتا اور دوسروں کی رو کرتا ہے اور اب بھی حضرت مرزا صاحب کا یہی دعویٰ ہے کہ بے شک کئی سو مریض لے کر بذریعہ قرعہ مجھ میں اور میرے مخالفوں میں تقسیم کر دئے جائیں۔میرے حصہ کے مریض دوسروں کی نسبت زیادہ تعداد میں شفایاب ہوں گے۔خواہ مخالفوں کو ڈاکٹر بھی امداد دیں۔دوم۔اگر کوئی مخالف آریہ (خواہ ایک ہوں یا زیادہ ) ایسا اشتہار شائع کرے کہ میں مرزا صاحب کے شایع کردہ تمام دلائل بابت صداقت اسلام بغور پڑھ کر یہ اعلان کرتا ہوں (معاذ اللہ ) اسلام سچا دھرم نہیں اور نہ ہی مرزا صاحب سے پر میشر ہم کلام ہوتا ہے اور نہ وہ اس کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں میں دعا کرتا ہوں کہ اے پر میشر ہم دونوں میں سے جس کا مذہب جھوٹا ہے۔اس پاپی کو بچے انسان سے پہلے ہلاک کرتا کہ حق و باطل میں واضح فیصلہ ہو جائے۔حضرت مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ایسا شخص آسمانی بلا سے تباہ ہو گا ورنہ مجھے کا ذب سمجھا جائے۔یہ شرط ہو گی کہ ایسے آریہ سماجی کو پنجاب کے نامی آریہ سماجی اپنا قائم مقام قرار دیں اور لکھ دیں کہ اس کا جھوٹا یا سچا ہونا ہمارا اور ہمارے مذہب کا صادق و کاذب ہونا تسلیم ہوگا۔سوم۔لاہور میں ایک جلسے میں آریہ قوم کے لیڈر اپنے مذہب کی خوبیاں ویدوں سے بیان کریں اور مرزا صاحب اسلام کی خوبیاں قرآن شریف سے بیان کریں۔ایک دوسرے کے مذہب پر حملہ نہ ہو پھر جو غالب رہے اسی کا مذہب اختیار کیا جائے۔امید ہے کہ والیان ریاست بھی امداد کریں گے اور ان لوگوں کا مقابلہ دیکھیں گے جو ان سے ہزار ہاروپیہ وصول کرتے ہیں ایسا موقع کھو دینا نمک حرامی کا مترادف ہوگا۔