اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 38 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 38

38 ”سب سے پہلے ماسٹر عبدالرحمن صاحب جو آج کل کالا پانی میں ہیڈ ماسٹر ہیں، نے زمین خریدی تھی انہوں نے ایک مکان بنایا ہے جو کفایت شعاری اور پھر فراخی وضروریات کی موجودگی میں ایک نمونہ ہے۔(ص ۵۱) اس مضمون سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت دار العلوم میں ابھی تک صرف سات مکانات تعمیر ☆ ہوئے تھے اور قادیان گائیڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ دار العلوم میں کوٹھی نواب محمد علی خان صاحب۔مسجد نور۔ہائی سکول اور اس کے متعلقہ کوارٹرز وغیرہ کے علاوہ اکتوبر ۱۹۲۰ ء تک صرف دس مکانات اور دار الفضل میں تمہیں مکانات تعمیر ہو چکے تھے: ماسٹرعبدالرحمن صاحب بی اے سابق مہر سگ کا مکان بھی تھا۔اس وقت قادیان کے احمدیوں کے کل مکانات بشمول دار مسیح اور سکول وغیرہ پونے دو صد تھے۔جن میں سے نئی آبادی یعنی دار العلوم، دار الفضل اور دارالرحمت میں صرف ۲۵ مکانات تعمیر ہوئے تھے۔دار الفضل میں ماسٹر صاحب نے سات آٹھ کنال اراضی خریدی تھی جس کے مالکانہ حقوق آپ نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے منتقل کر والئے تھے۔آپ کے مکان کا نقشہ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی نے تیار کیا تھا اور انہی کی نگرانی میں یہ مکان تعمیر ہوا تھا۔آغاز تعمیر کے وقت آپ کا مشاہرہ صرف اکاون روپے تھا اور آپ کے پاس صرف سترہ روپے نقد تھے۔تو کلا آپ نے مکان کی تعمیر شروع کر دی اور مقروض ہو گئے۔دعا کی تو رویا میں دیکھا کہ ایک پہاڑ ہے جو بہت بلند اور سیاہ ہے آپ اس پر چڑھ گئے ہیں۔ان دنوں آپ کو سیلون برائے تبلیغ بھجوانے کی تجویز تھی لیکن ان ہی دنوں آپ کو انڈیمان والی ملازمت میسر آگئی اور سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اچھا سیلون نہ ہی انڈیمان چلے جاؤ تبلیغ بھی ہوگی اور ملازمت بھی۔وہاں آپ کا مشاہرہ تین صد روپیہ مقرر ہوا۔اور ایک بنگلہ بھی ملا۔اور متعدد قیدی بطور ملازم اور سواری کے لئے رکشا میسر تھی۔جسے آٹھ آدمی چلاتے تھے چنانچہ اس ملازمت سے یہ سارا قرض ادا ہوا بلکہ مکان میں مزید ایزادی بھی کی گئی۔یہ مکان دار الفضل کا اولین مکان تھا۔بعد ازاں رسائیدار خدا داد خاں صاحب۔پیر محمد یوسف صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی کے مکانات تعمیر ہوئے۔در حقیقت یہ محلہ بالکل جنگل بیابان کا حکم رکھتا تھا۔قادیان کی قدیم آبادی وہاں سے بہت دور تھی ، چوری چکاری کا خطرہ تو ہر وقت رہتا ہوگا۔☆ محلہ جات میں ۱۹۲۰ء تک تعمیر شدہ مکانات کی فہرست قادیان گائیڈ (مطبوعہ ۲۵ نومبر ۱۹۲۰ء ) شائع کردہ میاں محمد یا مین صاحب تاجر کتب قادیان میں موجود ہے۔بیان سردار بشیر احمد