اصحاب احمد (جلد 7) — Page 32
32 داخلہ ضرور مل جائے گا۔پرنسپل صاحب نے حیران ہو کر پوچھا۔کیا اس زمانے میں بھی الہام ہوتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ جب کہ اللہ تعالیٰ اب بھی سنتا اور دیکھتا ہے تو وہ بولتا بھی ہے۔موسم گرما کی تعطیلات میں ماسٹر صاحب نے ایک ماہ تبلیغ کے لئے وقف کیا اور سفر میں دعا کرتے رہے کہ یا الہی میں تیرا کام کرتا ہوں تو میرا کام کر دے۔چنانچہ موضع کریام (ضلع جالندھر ) میں ظہر کی نماز میں کشفی حالت میں آگرہ کا ایک ہندولڑ کا سانولے رنگ کا دکھایا گیا کہ اسے پرنسپل صاحب کہتے ہیں کہ ” نکل جاؤ، ہم تمہیں نہیں مانگتا ماسٹر صاحب نے حضرت حاجی غلام احمد صاحب مرحوم ( امیر جماعت کریام) سے کشف کا ذکر کیا اور کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہندولڑ کا نکالا جائے گا اور میرالڑ کا داخل کر لیا جائے گا۔چنانچہ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے اطلاع دی کہ گویا کشف والے وقت کی بات ہے کہ ایک ہندولڑ کا پرنسپل کے پاس سے گذرا۔انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔اس نے کہا کہ میں دوسہرے کی تعطیلات گزار کر گھر سے آیا ہوں۔ان کے دریافت کرنے پر کہ کیا سپرنٹنڈنگ بورڈنگ ہاؤس سے اجازت لے کر گئے تھے۔لڑکے نے جواب دیا کہ تعطیلات ہونے پر سب لڑکے چلے گئے اسی طرح میں بھی چلا گیا۔میں کوئی قیدی تو نہیں تھا کہ سپرنٹنڈنٹ سے اجازت لے کر جاتا۔اس گستاخانہ جواب سے پرنسپل صاحب نے برافروختہ ہو کر کہا ارے بے ایمان ! چلے جاؤ ہم تمہیں نہیں مانگتا۔اور یہ بھی کہا کہ پہلے تمہارا قصور نہ تھا لیکن اب قصور ہو گیا ہے پھر ( ڈاکٹر ) نذیر احمد صاحب سے کہا کہ تم ابھی تک یہیں ہو۔کیا آج تم ایک ہزار روپے کی ضمانت دے سکتے ہوتا کہ تمہیں داخل کر لیا جائے انہوں نے کہا دے سکتا ہوں۔چنانچہ ضمانت دے کر داخل ہو گئے حالانکہ اس وقت سہ ماہی امتحان ہو چکا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ورحم سے خاص طور پر مددفرمائی اور اس مسبب الاسباب نے بظاہر غیر ممکن حالات میں موافق حالات پیدا کر دیئے۔نہ صرف یہی بلکہ اس منبع جود وسخا اور سر چشمہ خیر و برکت نے مزید فضل پر فضل کیا ، والد کا نام دریافت کرنے پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میرے والد عبدالرحمن بی اے نو مسلم ہیں۔پرنسپل صاحب کے دل میں شفقت کا سوتا پھوٹ پڑا اور کہنے لگے کہ میرا نام بھی عبدالرحمن ہے پس تم میرے ہی بیٹے ہو۔چار سال کے لئے ۲۵ روپے ماہوار وظیفہ لگا دیا ہے اور کیا مانگتے ہو؟ ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ ضروریات کا آپ کو بہتر علم ہوتا ہے، اس پر انہوں نے اڑھائی صد روپے کے نصاب کی کتب بھی بطور امداد دلائیں۔نہ صرف آپ نے ڈاکٹری پاس کی بلکہ کچھ عرصہ وہاں اسٹنٹ لیکچرار بھی لگے رہے۔بعد ازاں آپ کی دو ہمشیرگان نے بھی اسی کالج سے ڈاکٹری پاس کی جس سے اس خاندان کو نہ صرف خدمت خلق کا بہت موقع مل رہا ہے بلکہ سارے خاندان کی اقتصادی حالت بھی بہت بہتر ہوگئی اور ان سب کو بفضلہ تعالیٰ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مالی خدمات کا بھی موقع مل رہا ہے۔( قلمی مسودہ ) حضرت ماسٹر صاحب