اصحاب احمد (جلد 7) — Page 31
31 حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ایک سو روپیہ مہر پر نکاح کا اعلان کر دیا۔چند ماہ بعد رخصتانہ لینے کے لئے ماسٹر صاحب اکیلے گئے اور اونٹ پر سفر کیا۔اس کا باعث یہ امر ہو گا کہ ان دنوں پہاڑی سفر کے لئے موجودہ سہولتیں میسر نہ تھیں۔آپ نے اپنی سادہ طبیعت کے موافق سیدھا پاجامہ اور تمیض اور پگڑی پہنی ہوئی تھی۔خلیفہ صاحب نے نئے پار چات دئے۔محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کی عمر اس وقت تیرہ چودہ سال کی تھی۔رخصتی پر دلہن کے ہمراہ خلیفہ صاحب کی اہلیہ اول اور ان کے فرزند محترم خلیفہ عبدالرحیم صاحب ( حال مہاجر سیالکوٹ ) جو اس وقت جماعت چہارم کے طالب علم تھے قادیان آئے۔قادیان میں مکان نہ ملتا تھا۔بالآخر سید محمد علی شاہ مرحوم نے اپنا باورچی خانہ دیا جہاں اس دولہا دلہن نے قیام کیا۔اور وہیں آپ کی بڑی بچی بشری ۰۳ ۱۹۰۲ میں پیدا ہوئی۔چند ماہ تک امیدواری نہ ہوئی تو فکر لاحق ہوا۔آپ کی ساس صاحبہ نے غالبا تسلی دیتے ہوئے کہا ہوگا تا کہ گھبرا نہ جائیں کہ میں والدین کی شادی کے بارہ سال بعد پیدا ہوئی تھی۔ماسٹر صاحب نے دعا کی تو آپ کو الہام ہوا A rid shall be reclaimed یعنی بنجر زمین کی اصلاح کر دی جائے گی۔چنانچہ بشریٰ پیدا ہوئیں۔اس کے بعد ایک بچہ بشارت احمد پیدا ہوا جو سوا سال کا ہو کر داغ مفارقت دے گیا۔اس کی ولادت کے متعلق آپ رقم فرماتے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے جسے بطور تحدیث بالنعمة میں بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا اور وہ یہ ہے کہ یہ عاجز بھی الہام الہی اور کشوف کا تجربہ کار ہے۔چنانچہ منجملہ ان کے ایک کشف یہ ہے کہ مجھے دکھلایا گیا کہ اس عاجز کے گھر میں بیٹا پیدا ہو گا۔سوخدا نے مجھے اب بیٹا عطا کیا جو تمبر ۱۹۰۴ء کو پیدا ہوا اور یہ کشف اس زمانہ میں ہوا تھا کہ میری شادی نہیں ہوئی تھی اور نہ اس کا ابھی خیال ہی تھا۔(26) ،، بشارت احمد مرحوم کے بعد ڈاکٹر نذیر احمد کی ولادت ہوئی۔اس کی کچھ تفصیل بعد میں آئے گی۔ماسٹر صاحب کا ارادہ تھا کہ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو بی اے کرائیں۔کپورتھلہ کے کالج سے ایف اے پاس کیا تو حضرت ماسٹر صاحب کو خواب میں بتایا گیا کہ نذیر احمد کو ڈاکٹر بناؤ وہ ڈاکٹر بن جائے گا۔آپ کے لکھنے پر انہوں نے کالج چھوڑا اور امرتسر میڈیکل کالج میں داخل ہونا چاہا لیکن گوایف اے میں اچھے نمبر آئے تھے لیکن میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن تھی اس لئے داخلہ نہ مل سکا اور وہ افسردہ خاطر ہوئے۔آپ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آپ کو ڈاکٹر بنانے کا ہے۔آپ جولائی میں آگرہ کے میڈیکل کالج میں داخل ہونے کے لئے چلے جائیں لیکن انہیں وہاں بھی داخلہ نہ ملا تو ماسٹر صاحب نے لکھا کہ تم پر وفیسروں سے ملتے رہو، اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوگا خواہ اس رنگ میں کہ کوئی لڑکا فوت ہو جائے یا کسی کو کالج سے نکال دیا جائے اور جب پرنسپل نے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب سے دریافت کیا کہ اب تم کیوں وقت ضائع کرتے ہو اب تو ویٹنگ لسٹ کا بھی موقعہ نہیں رہا تو انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب کو خدا تعالیٰ نے الہا ما بتایا ہے کہ میں ڈاکٹر بن جاؤں گا۔گویا خواہ کوئی لڑکا نکل جاوے یا خدا کو کوئی لڑکا مارنا پڑے مجھے