اصحاب احمد (جلد 7) — Page 30
30 دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کے تمام بھائی گلاب سنگھ ، پرتاب سنگھ اور میاسنگھ لا ولد ہی فوت ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ایفاء عہد کی ایک عجیب شان نظر آتی ہے۔گویا دونوں فریق کی ایمانی حالت کا اندازہ لگانا دونوں کی دنیوی حالت کے آئینے میں بھی اولوالابصار کے لئے قابل فہم بنا دیا ہے۔جس نے خدا تعالیٰ کی خاطر دنیا چھوڑی۔اقارب اور مال و منال ترک کئے لیکن خدا تعالیٰ کو جو مالک ارض و سما ہے پالیا ہے تو وہ کس طرح نقصان میں رہ سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ کرام میں بھی ہمیں یہی صورت نظر آتی ہے۔جموں کے حضرت خلیفہ نورالدین صاحب نے جو ایک قدیمی اور مخلص صحابی تھے اور قوم کے لحاظ سے غوری مغل تھے اور اب بہشتی مقبرہ قادیان میں آرام فرماتے ہیں۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کو یہ کہہ رکھا تھا کہ میری لڑکی غلام فاطمہ بڑی ہونے کو ہے۔اس کے لئے موزوں اور کفو رشتہ درکار ہے۔آپ خیال رکھیں۔چنانچہ ایک دفعہ خلیفہ صاحب قادیان آئے ہوئے تھے تو حضرت مولوی صاحب نے ان کو کہا کہ ” یہ میاں عبدالرحمن ایک مخلص اور نیک لڑکا ہے اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔“ خلیفہ صاحب نے کہا کہ یہ غریب آدمی ہے اس کا نہ کوئی آگا“ ہے اور نہ پیچھا نہ اس کے خاندان کا کچھ پتہ ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ ایک نیک آدمی ہے۔تبلیغ کا جوش رکھتا ہے آپ اس کے متعلق غور کر لیں۔خلیفہ صاحب نے عرض کی کہ میں اپنی بیوی سے ذکر کروں گا۔چنانچہ گھر میں ذکر کر کے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میری بیوی بھی یہی کہتی ہیں کہ یہ غریب آدمی ہے نہ اس کا کوئی آگا ہے نہ پیچھا۔نہ گھر نہ گھاٹ۔اس کے کمرہ میں صرف ایک چٹائی ایک لوٹا اور ایک چار پائی ہے۔بس میری لڑکی کہاں رہے گی۔حضرت مولوی صاحب نے بڑے زور سے پنجابی میں فرمایا۔”میاں نورالدین صاحب ! جے تے تہاڈی لڑکی دے بھاگاں وچ کچھ ہے تے اوہ خالی گھر وچ جا کے وی اونوں بھر دیے گی۔تے جے اوہدے بھاگاں وچ کچھ نہیں تے اوہ بھرے گھر وچ جا کے بھی اونوں خالی کر دیے گی۔“ ☆ اس پر حضرت خلیفہ صاحب نے یہ تجویز فوراً قبول کر لی * ✰✰ یہ ۰۲۔۱۹۰۱ ء کی بات ہے چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے ہی بموجودگی حضرت مسیح موعود و یہ تفصیل سردار بشیر احمد صاحب نے خلیفہ صاحب اپنے نانا جان سے اور اپنی والدہ محترمہ سے سنی تھی۔مؤلف ی ہیں یہ سارا بیان سردار بشیر احمد صاحب نے اپنے والد صاحب سے لکھا تھا ( ب ) بشری صاحبہ کا نکاح قادیان کے ایک ہفت نامہ البشری کے ایڈیٹر محمد حسن صاحب تاج کے ساتھ ۱۹۱۵ء میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے پڑھا تھا۔موصوفہ ۱۹۴۳ کو فیروز پور میں وفات پاگئیں (25) محمد حسن صاحب تاج بھی وفات پاچکے ہیں۔