اصحاب احمد (جلد 7) — Page 22
22 ضروریات ان کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ میں نے پہلے بھی زبانی اور بذریعہ اخبار حکام کو توجہ دلائی ہے۔پہلے سڑک کے پختہ کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں لیکن بٹالہ سے ہوشیار پور کی طرف ریلوے لائن کھولنے کی تجاویز سے سڑک کی تجویز ختم ہو گئی۔محکمہ ریلوے کی طرف سے ٹریفک کا اندازہ بھی کیا گیا اور کچھ حصص بھی فروخت ہوئے لیکن عملی رنگ میں یہ تجویز تکمیل کو نہ پہنچی۔قادیان کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی وجہ سے یہ گمنام مقام دنیا میں شہرت پا گیا ہے۔ضلع میں یہ واحد قصبہ ہے جو تعلیمی اور رفاہ عامہ کے کاموں میں ممتاز ہے۔سارے ضلع میں یہاں ہی تین اخبار اور تین رسالے شائع ہوتے ہیں اور تین پریس جاری ہیں۔تعلیم الاسلام ہائی اسکول صوبہ بھر میں نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔اتنے بورڈ ر صوبے کے کسی مدرسہ کے نہیں ہوں گے۔کشمیر، راس کماری ، بنگال بہار، پشاور تک کے طلباء تعلیم پاتے ہیں۔دینیات کا بھی مدرسہ ہے افغانستان و عرب تک سے لوگ آتے ہیں۔آنے والوں کی تعداد چالیس پچاس ہزار سے کم نہیں ہوتی۔جماعت کے امام حضرت مولوی نورالدین صاحب چونکہ تجربہ کار شاہی طبیب اور ہندوستان میں شہرت یافتہ ہیں۔اس لئے سالہا سال سے ہزار ہا مریض ان کے پاس آتے ہیں۔پہلے قادیان میں ڈاک خانہ ایک مدرس کو الاؤنس دے کر قائم کیا گیا تھا۔پھر مدرسے سے الگ کیا گیا اور بیس روپے ماہوار کا سب آفس جاری ہوا اور اب پچاس روپے کاسب پوسٹ ماسٹر مقرر ہے اور اس کے ساتھ ایک کلرک اور دو چٹھی رساں کام کرتے ہیں اور ایک پیکر ہے، ڈاک کی کثرت کے باعث دو دو وقت ڈاک آتی اور جاتی ہے۔ہر کاروں کے ذریعے ڈاک بھجوانا نا قابل برداشت سمجھ کر اس کی آمد ورفت کا انتظام بذریعہ یکہ کیا گیا۔جس کا خرچ اتنی روپے ماہوار ہے۔سارے ضلع میں ڈلہوزی اور شکر گڑھ لائن کے سوا قادیان ہی ایسا مقام ہے جہاں ڈاک بذریعہ یکہ پہنچائی جاتی ہے۔اب سامان تجارت بھی بکثرت آتا ہے اور بٹالہ اناج کی منڈی ہونے کے سبب علاقہ ریاڑ کی سے تمام اناج وہاں جاتا ہے۔اس پر صاحب موصوف نے سڑک کو درست کرنے کے فوری احکام صادر کئے اور اسے جلد پختہ کرنے کی (18) امید دلائی۔جب دو سال تک بھی اس وعدہ کا ایفا نہ ہوا تو عرفانی صاحب نے مجھے وعدہ یاد دلاتے ہوئے لکھا کہ آمد و رفت دن بدن بڑھ رہی ہے ضرورت ہے کہ اسے پختہ کیا جائے۔۱۹۱۳ء میں امید تھی کہ بٹالہ قادیان سڑک کی تعمیر کا کام صوبائی فنڈ سے منظوری لینے کے بعد شروع ہو جائے جس کا بے صبری سے انتظار ہوتا رہا۔(20) (19)