اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 225 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 225

224 (22) احباب جماعت سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چوہدری صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے۔پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے اور مرحوم کی اولاد کو ( جو پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مشتمل ہے ) مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمت سلسلہ کی زیادہ سے زیادہ تو فیق عطا فرمائے آمین 2 الفضل مورخہ ۱۴، ۲۷ اپریل ۱۹۶۰ء میں صدر انجمن احمد یہ قادیان وتحریک جدید انجمن احمد یہ پاکستان کی طرف سے قرار داد ہائے تعزیت شائع ہوئی ہیں۔موخر الذکر تعزیت مساجد ( بیرون ) کی تعمیر کے لئے چوہدری صاحب کی غیر معمولی اور پر جوش خدمات کی بھی تعریف کی گئی ہے اور یہ امر جنت میں مکان بنانے کا موجب ہوتا ہے۔محترم چوہدری برکت علی خاں صاحب از قریشی عبدالرشید صاحب آڈیر تحریک جدید) استاذی المکرم محترم چوہدری برکت علی خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ عالیہ کی خدمت کا لمبا موقعہ عطا فرمایا جس کا آغاز غالباً ۱۹۰۵ء میں آپ نے الحکم کے دفتر سے کیا۔بعد ہ صدرانجمن احمدیہ کے مختلف عہدوں پر کام کرتے ہوئے آپ آڈیٹر صدرا جمن احمد یہ کے عہدے پر پہنچے۔۱۹۳۴ء میں تحریک جدید شروع ہونے پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور حضور نے آپ کو تحریک جدید کے مالی شعبہ کا انچارج بنایا۔جہاں آپ نے دن رات کی محنت شاقہ اور انتھک جدوجہد سے ایسے رنگ میں اپنے آپ کو اس انتخاب کا اہل ثابت کیا کہ بالآخر ۱۹۵۷ء میں تحریک جدید کی ۲۳ ساله شاندار خدمت کے بعد آپ کو ایک کامیاب و کامران وکیل المال کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کا فخر حاصل ہوا۔سیدنا حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بار ہا آپ کے کام کی تعریف فرمائی۔اور متعدد دفعہ خطبات اور مجلس مشاورت کے مواقع پرخوشنودی کا اظہار فرمایا۔حضرت چوہدری صاحب مرحوم و مغفور سے میرا تعارف قادیان میں ۱۹۶۴ء میں ہوا بلکہ مجھے آپ کے ساتھ ایک لمبا عرصہ کام کرنے کی سعادت ملی۔اس اثناء میں مجھے آپ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔حضرت چوہدری صاحب مرحوم بلا شبہ ایک بے لوث اور مسلسل سترہ سترہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے والے بزرگ تھے آپ کے کام کا طریق دو اصولوں پر مبنی تھا۔اول یہ کہ تحریک جدید کے ہر وعدہ کرنے والے ست سے ایک ذاتی تعلق پیدا کرنے کی کوشش فرماتے اور اس وجہ سے روزانہ ڈاک کا جواب خود اپنے ہاتھ سے ہر دوست کو تحریر فرماتے۔اور خط کو ایک ایسا ذاتی رنگ دیتے کہ قاری گہرا اثر لئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔دوم روز کا دوست