اصحاب احمد (جلد 7) — Page 208
208 نہ رہا اور نہ ہی میں نے ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۸ء اور پھر ۱۹۰۹ء سے اب تک اس کا خیال کیا کہ دفتر کا وقت ختم ہو گیا چلو گھر چلیں۔بلکہ یہ بات گھٹی میں پڑی ہوئی تھی کہ جب روزانہ کا کام ختم نہ ہو دفتر بند نہ ہوا اگر ضرورت پڑے تو گھر لے جا کر روزانہ کام ختم کرو۔پس میں نے دفتر کے وقت کا خیال نہیں رکھا بلکہ روزانہ کام ختم کرنا اصول بنایا۔اتفاق کی بات ہے کہ تحریک جدید کا دفتر حضور کے قصر خلافت میں تھا۔خاکسار تو رات کے دس بجے یا کبھی بارہ بجے تک کام کرتا۔مگر حضور ایک دو بجے تک عموماً اور بعض دفعہ ساری رات بھی کام کرتے اور نماز فجر پڑھانے کے لئے تشریف لے جاتے۔جب خاکسار کا آقا ساری ساری رات کام کرتا تھا تو میرے لئے کیا عذر تھا کہ زیادہ وقت لگا کر کام پورا نہ کروں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ جہاں وعدوں کے ہر خط پر رقم اور جزاکم اللہ احسن الجزاء اپنی قلم سے ارقام فرماتے وہاں اس کے متعلق اور بھی کوئی بات ہوتی تو اسے بھی خاکسار کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے لکھ دیتے تا خاکسار صحیح طریق اختیار کر سکے۔اسی طرح عام ڈاک میں بھی ہر خط پر حضور کا نوٹ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی ہدایت کے لئے ہوتا۔تحریک جدید کے خطوط کے نوٹ تو میں نے نہایت احتیاط سے محفوظ رکھے تھے کیونکہ خاکسار نے پانچویں سال میں ہی ارادہ کر لیا تھا کہ حضور کے ارشاد کسی نہ کسی طرح ضرور شائع کروں گا انشاء اللہ تعالی مگر مرضی مولی از ہمہ اولی وہ تمام ذخیرہ پاکستان آتے وقت ساتھ نہ لا سکا۔سوائے تحریک جدید کے رجسٹروں کے۔اسلامی شعار اختیار کرنے کی ہدایت جنوری ۱۹۳۵ء کا ذکر ہے کہ تحریک جدید کے بارے میں ایک دوست کو میں نے خط لکھا۔ایک لفظ مجھ سے نادانستہ ایسا لکھا گیا جس سے اس دوست نے میرے لہجہ کو حاکمانہ سمجھ کر حضور کی خدمت میں میری شکایت کی اس وقت تحریک کی ساری خط و کتابت حضور کی خدمت میں آتی تھی۔حضور نے خاکسار کو بلا کر پوچھا کہ کیا آپ نے کسی کو یہ لفظ لکھا تھا۔میں نے معا عرض کیا کہ حضور ! لکھا تھا اس پر حضور نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ: یہ تو حاکمانہ طریق ہے میرے ساتھ جس نے کام کرنا ہے اسے اسلامی شعار اختیار کرنا ہوگا۔کیونکہ میرا کام اسلام کا استحکام اور اس کا مضبوط کرنا ہے۔“ پس اس دن سے میں نے حضور کے ارشادات کی روشنی میں تعمیل کرنا اپنا طریق بنایا اس جگہ میں تمام احباب اور خصوصاً کارکنان سے عرض کروں گا کہ وہ بھی اس کو اپنا دستورالعمل بنا ئیں۔