اصحاب احمد (جلد 7) — Page 200
200 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے جو اشتہار یا کتاب آتی۔اسے اپنی پگڑی میں رکھتے اور جہاں کہیں دو چار آدمی بیٹھے پاتے وہاں جا کر بیٹھ جاتے اور حضور کی تحریر سناتے۔چونکہ اس زمانہ میں لوگ ڈاکٹری سے گھبراتے تھے اور دیسی علاج پسند کرتے تھے اور لوگ حکیم صاحب موصوف کے حسن اخلاق اور حکمت کے قائل تھے اس لئے ان کی بات سنی جاتی تھی۔حکیم صاحب کی بیعت کا سنہ تو ۱۸۹۸ء سے قبل کا ہے اور وفات ۱۹۰۰ء کے لگ بھگ ۸۵ سال کی عمر میں ہوئی۔واللہ اعلم بالصواب۔آپ کے دو بیٹے عبداللہ خان وعبد الواحد خاں دونوں احمدی تھے ( اول الذکر والد کی زندگی میں وفات پاگئے تھے اور موخر الذکر نے خلافت ثانیہ کے زمانہ میں وفات پائی۔انا للہ وانا الیہ راجون۔(۴) چوہدری غلام نبی خاں صاحب آپ قوم راجپوت کے فرد تھے ، انہوں نے بھی ۱۸۹۸ء سے پہلے بیعت کی تھی وہ تھے تو بہت غریب مگر احمدیت کے شیدا تھے اور نماز مسجد میں آکر ادا کرنے کے سخت پابند تھے بلکہ تجد بھی مسجد میں آکر ادا کرتے تھے۔ان کا ایک لڑکا غلام رسول نام احمدی تھا جو باپ کی طرح سلسلہ کا خادم تھا۔مجھے یاد ہے ۱۸۹۸ء کی لڑائی میں اس نے ایک فوجی کو جس نے اسے گالی دی تھی زمین پر گرا کر اس کا ایک انگوٹھا نکال دیا تھا۔غلام رسول کو اس کیس میں ایک سال کی قید ہوئی تھی۔سنا تھا کہ وہ قید میں بھی نمازوں کی پابندی کے علاوہ تبلیغ کرتا رہتا تھا۔وہ قید سے آکر کچھ عرصہ بعد فوت ہو گیا۔چوہدری غلام نبی خاں صاحب کی ایک لڑکی عمداں بیگم صاحبہ تھیں جو ایک لمبا عرصہ قادیان میں اپنا اور اپنی لڑکی کا گزارہ معمولی دکان کر کے کرتی تھیں۔مرحومہ بھی باپ کی طرح بہت غیرتمند اور اپنے والد کی طرح کچی احمدی تھیں۔ابھی جون ۱۹۵۹ء میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئی ہیں، ان کے خاوند چوہدری ہادی خاں صاحب مرحوم تھے ان کے نرینہ اولاد نہ تھی (7) ☆ خاکسار کے استفسار پر آیا دونوں صحابی تھے۔چوہدری برکت علی خاں صاحب نے تحریر فرمایا کہ عبداللہ خاں نے بیعت خط کے ذریعہ کی اور عبدالواحد خاں نے بعد میں کی ہے۔و خاکسار کے استفسار پر آیا مائی عمداں بیگم صاحبہ کے خاوند صحابی تھی۔چوہدری برکت علی خاں صاحب نے تحریر فرمایا کہ چوہدری ہادی خاں صاحب نے قادیان آ کر بیعت نہیں کی خط سے کی (ب) خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ مائی مرحومہ دار الفضل قادیان میں ہمارے بالکل قریب رہتی تھیں۔واقعی نہایت صابر وشاکر اور دین سے محبت رکھنے والی خاتون تھیں۔آپ کی ایک لڑکی ہے جس کی شادی نہیں ہوسکی۔مرحومہ نے ایک بچہ مسمی ناراحمد پالا تھا۔مرحومہ خاکسار کے دادا جان کی بیٹی بنی ہوئی تھیں۔الفضل میں آپ کی تدفین کی رپورٹ شائع ہو چکی ہے۔( ج ) چوہدری برکت علی خان صاحب لکھتے ہیں کہ : چوہدری غلام نبی خاں صاحب کے خاندان میں ایک صاحب چوہدری سلطان بخش صاحب غالباً ۱۹۰۴ء میں احمدی ہوئے جو غیرت والے اور بہت رعب والے احمدی تھے ان کے زمانہ میں احمدیت کا چرچا گڑھ شنکر میں بہت تھا۔مگر ان کی زندگی نے وفانہ کی آپ غالباً ۱۹۰۵ ء یا ۱۹۰۶ء میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔گڑھ شنکر میں ایک حاجی نبی بخش صاحب سڑ وعد والے تھے جو بہت نیک اور پکے نمازی تھے۔مجھے ان کے مزید حالات کچھ معلوم نہیں۔“