اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 186 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 186

186 ہو کر بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ازار بند میں چابیوں کا گچھا لٹکتا ہوا ہم نے دیکھا تھا۔ہماری موجودگی میں کسی نے باہر سے لنگر کے واسطے روپیہ مانگا تو حضور نے اٹھ کر ازار بند والے گچھے کی چابی لگا کر ایک ٹرنک کا تالا کھولا اور روپے نکال کر اس کے حوالے کر دیئے۔اس سے حضور کی ایک تو یہ احتیاط ظاہر ہوتی ہے کہ سلسلہ کے روپے کو حضور باوجود اس قدر مصروف الخاطر ہونے کے کس طرح محفوظ اور مقفل رکھتے اور لینے اور دینے کی تکلیف برداشت کرتے تھے۔یہاں تک کہ اس کی چابی کو سنبھالنے کا بوجھ بھی حضور نے اپنے ہی ذمہ لیا ہوا تھا۔دوسرے حضور کی سادگی اور حسن ظنی اور اعتماد کا حال بھی اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت لنگر خانہ کا آدمی آتا ہے اور حسب ضرورت دستی روپیہ حضور سے مانگ لیتا حضور حسن ظنی اور اعتماد سے کام لیتے ہوئے رو پیہ حوالہ کر دیتے اور پھر اس کام سے بے فکر ہو جاتے ہیں۔“ (۷) حضرت اقدس کی ایک وحی مولوی محمد عبداللہ صاحب کے ذریعے پہلی بار شائع ہوئی ہے گو بعد ازاں اس سے قبل کی ایک تحریر اس کی تائید میں مل گئی ہے جسے خاکسار نے اصحاب احمد جلد ششم میں شائع کیا ہے۔تذکر طبع ثانی میں صفحہ ۷۸۲ پر مرقوم ہے کہ : حضرت مولوی شیر علی صاحب کی ایک روایت بوساطت مولوی محمد عبد اللہ بوتا لوی لکھی ہے۔قاضی ضیاء الدین صاحب ساکن کوٹ قاضی نے حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ نہایت انکساری کے الفاظ میں دعا کی درخواست کرتے ہوئے لکھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے خط پہنچنے کے بعد دعا کی اور آپ کو رات کے وقت جواب ملا۔وو وہ بے چارہ فوت ہو گیا ہے“ آپ نے صبح حاضرین سے کہا کہ میں نے اس طرح دعا کی تھی اور یہ جواب ملا ہے تھوڑی دیر بعد ڈاک میں خط آیا کہ قاضی صاحب فوت ہو گئے ہیں۔) (24) (۸) جب خاکسار ۲۹ مئی ۱۹۰۷ء کو مع اپنی والدہ صاحبہ اور اہل وعیال خود کے قادیان آیا تو اس وقت میری بڑی لڑ کی حمیدہ بیگم اہلیہ خاں صاحب قاضی محمد رشیدی۔جی۔اوسکندرآباد * خوردسالہ اور شیر خوار تھی جو اپنی والدہ کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان میں گئی اور اس حالت میں حضور نے ایک گلاس میں لسی پی ☆ تذکره ص ۶۶۹ طبع ۲۰۰۴ء ملاحم حال مقیم ربوہ (مؤلف)