اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 185 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 185

185 (۴) قاضی ضیاء الدین صاحب احمدیت سے پہلے اہل حدیث کا عقیدہ رکھتے اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی اور ان کی اولاد سے عقیدت رکھتے تھے۔ان کے ذریعہ سے ان کے گاؤں کے مالکان بھی اہل حدیث ہو گئے تھے۔چنانچہ قاضی صاحب ہی ان کے امام اور استاد اور طبیب بھی تھے اور اس وجہ سے وہ لوگ ان کی بہت عزت اور خدمت کرتے تھے احمدیت کی وجہ سے وہ لوگ سخت مخالف ہو گئے اور قاضی صاحب سے اپنے تمام تعلقات قطع کر لئے۔جب قاضی صاحب نے اس طور کے مقاطعہ کا اظہار حضرت اقدس سے کیا تو حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ قاضی صاحب اچھا ہوا کہ یہ بھی ایک بت تھا جو ٹوٹ گیا۔(۵) مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی لکھتے ہیں۔قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے خاکسار راقم سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم مہمانان قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان پر حضور کے ہمراہ کھانا کھا رہے تھے۔مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو کہ نہایت اعلیٰ درجہ کے فاضل تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا کر اخلاص میں بہت ہی بڑھ گئے ہوئے تھے وہ بھی اس دستر خوان پر کھانا کھا رہے تھے۔چونکہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کے دانت نکل چکے ہوئے تھے۔اس لئے کسی قدر تکلیف سے کھانا کھاتے تھے اور میں بھی دانت نکل جانے کی وجہ سے تکلیف سے روٹی کھا رہا تھا۔حضور نے ہم دونوں کی اس تکلیف کو دیکھ کر کھانا پکانے والے خادم سے جو د ہیں موجود تھا فرمایا کہ قاضی صاحب کو روٹی چبانے میں تکلیف ہورہی ہے۔اس لئے ایسے مہمانوں کے لئے چاولوں کا یا نرم روٹی کا انتظام کر دیا کریں اور ساتھ ہی مولوی برہان الدین صاحب کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مولوی صاحب کے بھی دانت تو نہیں لیکن یہ تجربہ کار معلوم ہوتے ہیں اور اپنے تجربہ کے ذریعہ سے کسی قدر سہولت پیدا کر لیتے ہیں۔لیکن قاضی صاحب ابھی نا تجربہ کار ہیں۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ اس واقعہ سے ایک تو یہ پایا جاتا ہے کہ حضرت اقدس کو اپنے مہمانوں کی خاطر مدارت اور ان کی ذرا ذراسی تکلیف کا کس قدر احساس ہوتا تھا کہ بغیر کسی کے اظہار تکلیف کے خود بخود ان کی آسانی اور آرام کا انتظام فرما دیتے۔دوسرے یہ کہ مولوی برہان الدین صاحب چونکہ خوش طبع انسان تھے۔اس لئے ان کی تکلیف کا اظہار بھی خوش طبعی کے رنگ میں فرمایا اور بعض اوقات ( حضور ) اپنے احباب کے ساتھ بے تکلفانہ مذاق کر کے ان میں بھی شگفتگی پیدا کر دیتے تھے۔(23) (۶) بیان کیا خاکسار سے میری والدہ صاحبہ مکرمہ (مرحومہ) نے جن کا نام مہتاب بی بی تھا اور جنھوں نے مئی ۱۹۰۷ء میں قادیان آ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت کی تھی اور جو دسمبر ۱۹۲۷ء میں فوت