اصحاب احمد (جلد 7) — Page 159
159 والے لوگوں کے تو یہاں پر بہت گھر ہوں گے اور وہ سب کے سب ہی میرزا کہلاتے ہوں گے کہیں میں غلطی سے کسی اور گھر میں تو نہیں چلا گیا۔اس پر میں نے واپس آکر اپنا اسباب مانگا جو مجھے مل گیا چنانچہ اپنا اسباب اٹھا کر ایک گلی میں جا کر پوچھا کہ (حضرت) مرزا صاحب کا مکان کدھر ہے جس پر ایک شخص نے مجھے بتایا کہ تو تو اس مکان کے پاس ہی کھڑا ہے ذرا ادھر تو دیکھو۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہاں پر بہت سے لوگ جمع ہیں اور ہر ایک کے پاس قرآن شریف ہے اور وہ لوگ قرآن ( کریم ) کی تلاوت کر رہے ہیں جن میں موضع بوتالہ کے دو آدمی میاں جلال الدین اور علم الدین ترکھان بھی ہیں۔آگے (حضرت) مرزا صاحب ایک لکڑی کے تخت پوش پر بیٹھے ہوئے کسی آدمی سے باتیں کر رہے ہیں۔جب حضور فارغ ہوئے تو خاکسار نے آگے ہو کر السلام علیکم کہا۔حضور نے سلام کا جواب دے کر خاکسار سے مصافحہ بھی فرمایا۔مصافحہ کا کرنا ہی تھا کہ مجھ پر رقت طاری ہوگئی اور میں زار وزار رونے لگ گیا اور بہت رویا۔جس کے بعد مجھے عالم رویا میں ہی یہ خیال آیا کہ میں جو بیعت کرنے کے لئے یہاں آیا تھا تو وہ بیعت یہی ہوگی جو میں نے حضور سے مصافحہ کی صورت میں کر لی ہے۔اس خیال کی وجہ سے پھر میں نے اور کچھ عرض نہ کیا۔یہ رویا اس زمانہ کی ہے جب کہ خاکسار بیعت سلسلہ کرنے کے لئے آمادہ تو تھا لیکن ابھی تک تحقیقات کا سلسلہ شروع تھا اور کبھی کبھی یہ خیال بھی آجاتا تھا کہ کہیں غلطی میں ہی مبتلا نہ ہو جاؤں۔اس رویا میں مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اس سلسلہ حلقہ کے لوگوں کا ایمان قرآن شریف پر ہے اور جو دو آدمی جلال الدین اور علم الدین مجھے دکھائے گئے یہ سلسلہ کے مخالف اور معاند تھے اور اب وہ اسی حالت میں فوت ہو چکے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ناموں کا تعبیر سے یہ تعلق ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی جماعت میں ہی دین کا جلال اور دین کا علم ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔مورخہ ۸ فروری ۱۹۰۱ ء کی رات کو رویاء میں بمقام بھیرہ دیکھا کہ میں مدینہ منورہ میں گیا ہوں اور شہر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوا کہ نہایت ہی ٹھنڈی اور دل خوش کن ہوا چل رہی ہے۔جس سے دل بہت خوش ہوا آسمان کی طرف دیکھا تو نور ہی نور نظر آیا۔لیکن وہ نور صرف اتنی ہی جگہ پر تھا جتنا کہ شہر مدینہ تھا باقی تمام آسمان پر کالی کالی گھٹاسی نظر آتی تھی اور مدینہ شریف والی جگہ ایسی معلوم ہوتی تھی جیسے بادل والے دن کوئی جگہ خالی از ابر ہوتی ہے اور اس میں سے دھوپ کی چمک باہر نکل آتی ہے۔“ اس رؤیا کے بعد خاکسار نے بیعت میں التوا کرنا نا مناسب سمجھ کر اگلے ہی دن مؤرخہ 9 فروری ۱۹۰۱ء کو ایک مفضل عریضه بطور درخواست بیعت بخدمت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر کر دیا جس میں اس