اصحاب احمد (جلد 7) — Page 151
151 صاحب کے پاس ہے، میرے والد صاحب کی وفات کی خبر سننے کے بعد مولوی صاحب نے خاص آدمی کے ہاتھ میرے پاس پہنچا دی۔حالانکہ کولو تارڑ ہمارے گاؤں بوتالہ سے قریباً ۶ اکوس کے فاصلے پر ہے۔مجھے یہ واقعہ اس لئے خاص طور پر یاد رہا ہے کہ میں نے اکثر علماء کو کتابوں کی واپسی کے بارہ میں غیر محتاط پایا ہے مولوی سید احمد صاحب کی وفات کے بعد ان کے ایک بیٹے کو میں نے نہایت مخلص احمدی پایا ہے، جن کا نام شاید حافظ محمد اسحاق تھا لیکن ان کا دوسرا بیٹا مولوی محمد حسین مولوی فاضل جو آج کل زندہ ہے سلسلہ کا شدید مخالف اور مناظر ہے جس کی وجہ یہ ہوئی کہ مولوی سید احمد صاحب نے بوجہ اہلحدیث ہونے کے اس کو مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا ہوا تھا۔اور مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنی ایک لڑکی بھی اسی کے ساتھ بیاہ دی تھی۔یہ دونوں تعلق ( شاگردی اور دامادی ) اس کی روحانی ہلاکت کا موجب ہوئے۔مولوی سید احمد صاحب کی وجہ سے موضع کولو تارڑ میں احمد یہ جماعت کا وجود قائم ہو گیا ہوا ہے۔“ بیعت سے قبل کی سرگذشت اگر چہ مجھ پر جو واقعات گذرے ہیں وہ کوئی خاص یا نرالے نہیں ہیں لیکن اسی خیال سے کہ شاید بعد میں آنے والے لوگوں کی نکتہ رس اور مشتاق نگاہیں ان سے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں ، اس لئے ان کو حوالہ قلم کر کے محفوظ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ایک دفعہ ہمارے گاؤں کا ایک باشندہ ستمی حسین شاہ جو کہ پٹواری تھا اور اہل حدیث خیالات رکھتا اور سلسلہ کے ساتھ شدید مخالفت رکھتا تھا۔وہ اپنے ہمراہ ایک مولوی کو جس کا نام نور احمد تھا اور جو حافظ محمد صاحب لکھو کے کے خاندان میں سے تھا گاؤں میں لے آیا۔ان دنوں میں میرے خیالات احمدیت کی طرف مائل تھے۔لیکن اسی حالت میں بھی مسمی حسین شاہ مذکور گاؤں کے لوگوں کو میرے خلاف اکساتا رہتا اور مخالف مولویوں کو لا کر سلسلہ کے خلاف وعظ کرواتا رہتا تھا تا کہ لوگوں پر احمدیت کا اثر نہ ہو جائے۔مولوی نور احمد کے پاس ایک نوٹ بک تھی جس پر وہ ایسے لوگوں سے دستخط کراتا اور تحریر میں حاصل کرتا رہتا تھا جنہوں نے اس کے وعظ سے متاثر ہوکر سلسلہ احمدیہ سے بے زاری یا انحراف کیا چنانچہ وہ لوگوں کو اپنا یہ کارنامہ دکھا کر متاثر کرتا تھا۔اس نے میرے سامنے بھی اپنے رطب و یا بس دلائل بیان کئے لیکن ان کا مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔چونکہ ان دنوں میں احمدیت میں داخل کرنے کا بڑا ذریعہ مسیح کی وفات کو ثابت کرنا اور احمدیت سے برگشتہ کرنے کے لئے بڑے سے بڑا حربہ مخالف مولوی کے پاس مسیح کی حیات ثابت کرنا ہی ہوتا تھا۔اس لئے مولوی نور احمد نے ہمارے گاؤں کے ایک کھلے میدان میں بھاری جمع کر کے مسیح کی حیات کا مسئلہ ہی بیان کیا اور آیت مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ) میں جو