اصحاب احمد (جلد 7) — Page 150
150 کا مناظر مولوی غلام قادر ہیڈ ماسٹر تھا جس کے معاونین مولوی غلام حسین احمدی گئی مسجد لاہور والے اور حکیم فضل الہی صاحب احمدی لا ہور محلہ ستھان والے ) اور قاضی ضیاء الدین صاحب احمدی اور مولوی امام الدین صاحب احمدی تھے۔اہل حدیث کا دعوی یہ تھا کہ الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کہنا شرک اور نا جائز ہے۔دوسری طرف حنفی علماء اس کو ذوق اور شوق سے پڑھنے کے مجوز تھے۔اہل حدیث کہتے تھے کہ یا ندا حاضر کے لئے ہے اس لئے اس کا استعمال نا جائز ہے۔حنفی علماء أيُّها النبی کی مثال دے کر جواز ثابت کرتے تھے۔اس مناظرہ میں حنفی فریق جس کی تائید میں متذکرہ صدر چار احمدی علماء تھے غالب رہے اور ان کو کھلی کھلی فتح نصیب ہوئی افسوس کہ آج کل مولوی امام الدین کی اولاد میں احمدیت نہیں رہی کیونکہ ان کی وفات کے وقت اولاد ان کی صغیر سن تھی جس کی تربیت بعد میں احمدیت کے رنگ میں نہ ہوئی لیکن مولوی صاحب کی نیکی اور تقویٰ اور طہارت کے اثر سے ان کے گاؤں کے کئی ایک آدمی احمدی ہو گئے۔چنانچہ بھڑی شاہ رحمن میں اب بھی احمدی جماعت موجود ہے۔(۴) ”ہمارے ضلع کے ایک مولوی سید احمد صاحب کو لوتار تحصیل حافظ آباد بھی میرے والد صاحب کے حین حیات میں قادیان گئے اور سلسلہ احمدیہ کی بیعت کر کے واپس آتے ہوئے ہمارے گھر میں رات رہے اور قادیان کے حالات میرے والد صاحب مرحوم ان سے نہایت ذوق و شوق سے سنتے رہے۔چنانچہ ان کی گفتگو میں نے بھی خوب کان لگا کر سنی۔منجملہ دیگر باتوں کے جو اس وقت مجھے پوری پوری یاد نہیں رہیں۔یہ بات مجھے اب تک یاد ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ واپسی کے وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے اپنی تصنیف کردہ کچھ کتابیں عنایت فرمائیں۔اس پر حضرت ممدوح نے فرمایا کہ جو جو کتاب آپ کو مطلوب ہے وہ نوٹ کر دیو ہیں۔چنانچہ مولوی صاحب نے جس قدر کتابوں کے نام لکھ دئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ سب کتا ہیں ان کے حوالے کر دیں۔چنانچہ ان کی آوردہ کتب کو میں نے ملاحظہ کیا۔یہ مولوی صاحب اس قدر علم دوست اور دیانتدار تھے کہ روانگی کے وقت انہوں نے میرے والد صاحب سے تفسیر ترجمان القرآن کے قریباً ۱۳ پاروں کی جلد مطالعہ کے واسطے عاریتالی جس کے بعد جلد ہی مارچ ۱۸۹۶ء کو والد صاحب فوت ہو گئے چونکہ وہ اپنی کتابیں اکثر لوگوں کو مطالعہ کے واسطے دیتے رہتے تھے اس لئے ان کے کتب خانے کا کافی حصہ ان کی وفات کے بعد لوگوں کے پاس ہی رہا اور ہمیں واپس نہ ملا۔لیکن یہ کتاب جس کے متعلق مجھے بھی کوئی علم نہ تھا کہ مولوی سید احمد ☆ مولوی غلام حسین صاحب اور حکیم فضل الہی صاحب ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے ضمیمہ انجام آتھم میں علی الترتیب ۱۳۳ اور ۲۱ نمبر پر ان کے اسماء درج ہیں (مولف)