اصحاب احمد (جلد 7) — Page 117
117 کے مقدمہ میں ایک قانونی بیان تجویز کیا اور کہا کہ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا۔مرزا صاحب نے بیان پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے۔خدا تعالیٰ نے تو اجازت نہیں دی کہ ملزم جھوٹ بول لے۔میں نے کہا کہ آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں۔تو مرزا صاحب نے کہا کہ جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ میں قانونی بیان دے کرنا جائز فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے خدا کو ناراض کرلوں۔یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا خواہ کچھ بھی ہو۔اس وقت مرزا صاحب کے چہرے پر ایک خاص جلال اور جوش تھا۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میں نے کبھی و ہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے۔میرا بیان آپ کے قانونی بیان سے زیادہ موثر ہوگا۔اگر بالفرض دنیا کی نظر میں انجام اچھا نہ ہو یعنی مجھے سزا ہو جائے تو میں خوش ہوں گا کہ میں نے اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی ، خدا کی عجیب قدرت ہے کہ مرزا صاحب اپنے بیان پر بری ہو گئے۔میں انہیں ایک کامل راستباز یقین کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بہت بڑی عظمت ہے۔حضرت ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ جب میں پورٹ بلیئر (انڈیمان ) میں ہیڈ ماسٹر تھا تو کرنل ڈگلس جزائر انڈیمان اور نکو بار کے چیف کمشنر تھے بعض اوقات وہ ہمارے سکول میں آیا کرتے تھے اور فخریہ طور سے بیان کرتے تھے کہ ہم نے تمہارے مرزا صاحب کا مقدمہ (فیصل ) کیا تھا۔اور الزام سے عزت کے ساتھ بری کیا تھا۔میں نے عرض کیا Pilate failed but you succeeded جناب ! آپ تو کامیاب ہو گئے اور صحیح موعود کو انصاف کر کے بری کر دیا۔مگر پہلا پیلا طوس نا کام اور بزدل تھا اس نے عیسی کو بے انصافی سے یہودیوں کے سپرد کر دیا۔جنھوں نے عیسیٰ سے بہت برا سلوک کیا۔(از مؤلف ) مکرم مولوی مبارک علی صاحب بنگالی مبلغ انگلستان نے کرنل ڈگلس صاحب سے ۲۸ جولائی ۱۹۲۲ء کو ملاقات کی تو کرنل صاحب نے اس مقدمہ کے حالات بیان کئے جس میں یہ بھی ذکر کیا کہ میرا یقین تھا کہ مرزا صاحب نیک بخت اور دیانتدار آدمی ہیں اور اسی امر کی تعلیم دیتے ہیں جس کا انہیں خود یقین ہے اور سلسلہ کی حیرت انگیز ترقی پر بڑا تعجب کیا اور کہا کہ مجھے گمان نہ تھا کہ یہ سلسلہ اتنا تر قی کر جائے گا۔(121) (۳۸) ایک دفعہ میں حافظ حامد علی صاحب کے بھائی کے گاؤں میں گیا۔انہوں نے ایک بچہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ بھی خدا کا ایک نشان ہے۔میں نے کہا کہ کیسے؟ کہا کہ میرے گھر میں اٹھرا کی مرض تھی۔میں حضور کے پاس عشاء کے وقت گیا حضور نے فرمایا کیا بات ہے۔میں نے عرض کیا کہ میری بیوی اٹھر اسے بیمار ہے۔حضور نے فرمایا کہ کل جمعہ کے وقت یاد کرانا۔جمعہ سے واپسی پر میں نے حضور کا دامن پکڑ لیا اور عرض کی کہ حضور دوائی دیں۔حضور نے فرمایا میں دعا کرتا ہوں تم بھی ساتھ دعا کرو اور آمین کہتے جاؤ۔انہوں نے کہا کہ میں تو تھک گیا مگر حضور نہ