اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 112 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 112

112 اور منہ میں انگلی ڈال کر کہا تھا کہ میں نے تو حضرت محمد ﷺ کو دجال نہیں کہا حالانکہ وہ ایسا کہہ چکا تھا، (112) (۲۵) مولوی محمد علی صاحب کے اکثر مضامین جو اسلام کی خوبیوں پر مشتمل تھے اخبار وطن میں شائع ہوتے تھے۔ایڈیٹر وطن مولوی انشاء اللہ صاحب نے یہ شرط لگائی کہ حضرت مسیح موعود کا نام مضامین میں نہ آئے تو مضامین شائع کروں گا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود سے مولوی محمد علی صاحب نے اجازت طلب کی۔حضور نے مسجد مبارک میں حاضرین خدام کے رو برو فر مایا کہ اگر میرا نام نہ لو گے تو کیا مردہ اسلام دنیا میں پیش کرو گے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسلام کی زندگی میرے وجود کے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔(۲۶) ایک مرتبہ لنگر خانہ میں روپے کی سخت ضرورت تھی۔میاں نجم دین صاحب خادم لنگر خانہ حضرت اقدس کے پاس آئے اور روپیہ مانگا حضور نے فرمایا ابھی جاؤ۔ابھی روپیہ میرے پاس نہیں اللہ تعالیٰ جلد روپیہ صحیح دے گا۔چنانچہ ظہر کی نماز کے وقت ایک نامعلوم شخص نے جو اجنبی اور غریب تھا اپنی پرانی لنگوٹی یا کپڑے سے ایک بوا حضور اقدس کی خدمت میں پیش کیا جس میں سونے کی مہریں تھیں اس نے یہ نہ بتایا کہ وہ کون ہے اور کیوں روپیہ دے رہا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بعض اوقات انسان کی شکل میں متمثل ہو کر انسانی ضروریات کو پورا کر دیا کرتے ہیں جس کا مجھے دو تین مرتبہ ذاتی تجربہ ہوا ہے۔(۲۷) '' مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دن جب کہ مغرب کے بعد مسجد مبارک کے شہ نشین پر رونق افروز تھے تو حضور نے اپنی بعض پیشگوئیوں اور الہامات کا ذکر فرمایا۔میں کچھ فاصلہ پر کھڑا تھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے خود حضور کی زبان مبارک سے یہ بات سنی یا دوسرے سنے والوں سے سنی لیکن یہ یقینی بات ہے کہ مجلس کے اکثر احباب اس روز نہایت سنجیدگی سے کہتے تھے کہ لاہور کے متعلق ابھی حضور نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ لوگ کہا کریں گے کہ یہاں بھی لاہور ہوتا تھا۔اس کے بعد مجھے لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ان دنوں حویلی کا بلی مل کے پاس حکیم محمد حسین صاحب قریشی اپنا عظیم الشان مکان بنوا ر ہے تھے میں نے ان سے یا ان کے رشتے داروں سے کہا کہ تم کیوں روپیہ ضائع کر رہے ہو۔لاہور شہر تو اجڑنے والا ہے کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ لوگ کہا کریں گے کہ یہاں بھی لاہور ہوتا تھا اور پھر دوبارہ میں نے کہا کہ جب یہ شہر تباہ ہونے والا ہے تو آپ کیوں اپناروپیہ ضائع کر رہے ہیں اس پر حکیم محمد حسین صاحب قریشی مالک کارخانه مفرح عنبری نے کہا کہ معلوم نہیں یہ پیشگوئی کب پوری ہو۔جب تک یہ شہر تباہ نہ ہو تب تک تو ہم فائدہ اٹھائیں گے، اسی طرح ایک دوسرے موقع پر حضرت مسیح