اصحاب احمد (جلد 7) — Page 91
91 سو خبر دار ہو نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ہر ایک سختی کی برداشت کرو۔ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو تا آسمان پر تمہارے لئے اجر لکھا جاوے۔۔۔اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو۔تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے جاؤ گے اور تمہاری عمریں بڑھائی جائیں گی۔۔۔سفلہ پن اور او باش پن کا تمہارے کلام میں کچھ رنگ نہ ہوتا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے، (*) حضور نے اس کتاب میں نومسلموں کا بار بار ذکر فرمایا ہے۔ان فقرات کو مناسب حال سمجھ کر یہاں درج کیا جاتا ہے حضور فرماتے ہیں: اب ہم آریہ صاحبوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو انہوں نے اپنے اشتہار میں ہماری جماعت کے نو مسلم آریوں پر کیا ہے اور وہ یہ کہ یہ مسلمان ہونا ان کا تب صحیح ہوتا کہ اول وہ چاروں وید پڑھ لیتے اور پھر ویدوں کے پڑھنے کے بعد چاہئے تھا کہ وہ آریہ دھرم کا اسلام سے مقابلہ کرتے اور پھر اس قدر تحقیق وتفتیش کے بعد اگر اسلام کو حق دیکھتے تو مسلمان ہو جاتے۔سو واضح ہو کہ ہمارے نومسلم آر یہ جہاں تک حق تحقیق کا ہے سب کچھ ادا کر کے مشرف باسلام ہوئے ہیں۔۔۔افسوس کہ انہوں نے اعتراض کرتے وقت انصاف اور خداترسی سے کام نہیں لیا۔بھلا اگر انہوں نے سچائی کی پابندی سے یہ اعتراض پیش کیا ہے تو ہمیں بتلادیں کہ ان میں سے وہ تمام لوگ رام رام کرنے والے جو سناتن دھرم پر قائم تھے اور پھر چند سال سے وہ آریہ بنے۔انہوں نے کس پنڈت سے وید پڑھا ہے۔۔۔۔بہر حال جو اعتراض ان آریہ صاحبوں نے نو مسلم ہندوؤں پر کیا ہے وہی اعتراض ان پر بھی ہوتا ہے۔پس اگر قادیان کے آریہ سماجیوں نے نو مسلم آریوں پر اعتراض کرنے کے وقت جھوٹ اور حق پوشی سے کام نہیں لیا تو ہمیں دکھلاویں کہ ان کی جماعت آریوں میں سے کتنے وہ لوگ ہیں جن کو۔۔۔۔وید سب کنٹھ ہیں۔یہ کس کو معلوم نہیں کہ یہ تمام مجمع قادیان کے آریوں کا ایک بازاری دوکان نشینوں کا مجمع ہے۔۔۔ان میں سے ایک بھی دید دان نہیں۔پس کیا ان لوگوں کے مقابل پر وہ شریف نو مسلم آریہ جاہل کہلا سکتے ہیں۔جو بعض ☆ ص۳ تا ۶۔حضور آگے تحریر فرماتے ہیں: اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ قادیان کے آریوں کا یہ حملہ جو میرے پر کیا گیا ہے یہ ایک نا گہانی ہے۔ان دنوں میں کوئی تحریر میری طرف سے شائع نہیں ہوئی اور نہ میرے قلم سے اور نہ میری تعلیم سے اور نہ میری تحریک سے کسی نے کوئی اشتہار شائع کیا۔پس خواہ نخواہ مجھے نشانہ بنانا اور مجھے گالیاں دینا۔اور میرے سید و مولیٰ جناب محمد مصطفی ﷺ کی نسبت توہین و تحقیر کے الفاظ لکھنا اور اس طرح پر مجھے دوہرے طور پر دکھ دینا میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قدر نفسانی جوش کیوں دکھلایا گیا۔“ (ص۶) اس سے ظاہر ہے کہ نومسلموں کا اشتہار حضور کے علم اور تحریک کے بغیر شائع ہوا تھا گویا شائع کرنے کے بعد حضور کے علم میں لایا گیا۔