اصحاب احمد (جلد 7) — Page 83
83 86 انگلستان میں وہاں کے مبلغ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی سے ذکر کیا کہ آپ کی جماعت کا ایک مذہبی دیوانہ ماسٹر عبدالرحمن پورٹ بلئیر میں میرے پاس تھا۔ماسٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ پورٹ بلئیر کے انگریزی سکول میں جو طالب علم اول آئے اسے حکومت تکمیل تعلیم کے لئے نو صد روپے دیتی تھی۔ان ایام میں بسرام اور درگا پر شاد دو طالب علم وظیفہ حاصل کرنے کے امیدوار تھے۔امتحان برما یونیورسٹی کی معرفت ہوتا تھا۔نتیجہ نکلا۔درگا پر شاد جو گرانڈیل نو جوان تھا اول آیا اور بسرام جو ہماری کتب کا مطالعہ کرتا تھا دوم آیا۔ٹیچرز کی مجلس میں نتیجہ سنایا گیا تو ماسٹر رنجیت سنگھ نے کہا کہ بسرام جو آپ کا ہم خیال اور مائل بہ اسلام ہے دوم آیا ہے ایسی دعا کریں کہ اول دوم بن جائے اور دوم اول بن جائے۔بظاہر یہ ناممکن تھا ماسٹر مذکور نے پھر کہا کہ چونکہ آپ کہتے ہیں کہ ہم کرشن اوتار قادیانی کے چیلے ہیں اور ہماری دعا ضرور سنی جاتی ہے اس لئے اس بارہ میں دعا کریں چونکہ اس نے علانیہ یہ امر مجلس میں دہرایا تو میں نے بھی دعا کا وعدہ کر لیا چنانچہ میں نے ایک پہاڑی پر دست بدعا ہو کر بارگاہ الہی میں عرض کی کہ یا الہی ! تو میرے واسطے یہ پہاڑ کوہ طور بنادے۔چنانچہ اسی رات مجھے خواب میں ایک بورڈ پر لکھا ہوا دکھایا گیاBisram provident مجھے تفہیم ہوئی کہ اب آسمان پر طے ہو گیا ہے کہ بسرام اول کر دیا جائے گا اور درگا پرشاد دوم ہو جائے گا۔چنانچہ میں نے یہ خواب ٹیچرز کی مجلس میں بیان کر دی اور کہا کہ تم لوگوں نے ظلم کیا کہ اول کو دوم اور دوم کو اول کرا دیا بعض نے کہا جب سے سکول قائم ہوا ہے ایسا کبھی وقوع میں نہیں آیا۔درگا پر شاد وظیفہ لے کر کلکتہ کے ایک ہائی اسکول میں داخل ہو گیا۔لوگوں نے مہینہ بھر مجھے ہنسی محول کیا میں یہی جواب دیتا رہا کہ آسمان پر عمل درآمد ہو گیا ہے زمین پر عمل درآمد بعد میں ہوتا ہے۔خدا کا کرنا کیا ہوا کہ درگا پرشاد کو ایسی مرض دامنگیر ہوگئی کہ اس نے درخواست بھیجی کہ میری ہڈیاں مادر وطن پورٹ بلئیر پہنچاؤ۔چنانچہ وہ واپس آکر مل بھی ہوا کہ مریض ہونے کی وجہ سے میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں اس پر میں نے رپورٹ کی کہ لالہ بسرام کو جو دوم نمبر پر کامیاب ہوا تھا بنگال میں تعلیم نہ دلائی جائے بلکہ اسے کرشن اوتار کی سرزمین پنجاب میں تعلیم دلائی جائے۔چنانچہ میں نے اسے ماڈل سکول لاہور میں تعلیم دلائی۔اس دوران میں درگا پرشاد کا معمر باپ جنگل کے میوہ جات لایا اور درخواست کی کہ دعا کروں کہ درگا پر شاد فوت ہونے سے بچ جائے۔چنانچہ میں نے اس کے لئے دعا کی وہ موت سے بچ گیا اور اسے ملازمت مل گئی۔گذشتہ سال اس کا خط آیا کہ اب میں بمشاہرہ چار صد آٹھ روپے بطور فارسٹر متعین ہوں۔اس کا معمر باپ ۱۰۲ سال کی عمر میں تقسیم ملک کے بعد فوت ہوا ہے ( قلمی مسودہ) تبلیغ اور قبولیت دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جزائر انڈیمان میں پہلے قریباً ڈیڑھ درجن اور