اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 57 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 57

57 (مسیحی محمد ) کے جواب میں بحکم حضرت خلیفہ المسیح اول لکھا گیا۔قیمت “ الفضل ۲۰-۸-۲۳ (ص۱۰) وغیرہ سے اس کی قیمت دو اور تین آنے معلوم ہوتا ہے۔اس سے قبل الفضل ۱۵۔۷۔ا (ص۶) میں اس کے اشتہار میں اس کا نام ”رسالہ مسیح یا محمد ، رقم کیا اور لکھا ہے کہ دور سالوں میں بنام صحیح یا محمد کس پر بھروسہ کریں گے؟ اور ”ہمارا کوئی شفیع کامل ہوگا ؟‘ کا اس میں جواب دیا ہے قیمت نصف آنہ (۳۱ تا ۳۴) ” میں مسلمان ہو گیا یا اختیار الاسلام اس کتاب کے چہار حصص اور ایک ضمیمہ شائع ہوئے ہیں۔” میں مسلمان ہوگیا نام آپ کو الہاما بتایا گیا تھا۔اس کتاب میں بہت سے مسائل پر مفید بحث کی ہے مثلاً وید ابتداء آفرنیش میں نازل نہیں ہوئے۔ان کی تعلیم عالمگیر نہیں۔ستیارتھ پرکاش کی تعلیم بابت نیوگ کیوں لائق صد نفرین ہے۔دیانند جی کی زندگی بھی وید کے مطابق نہ تھی۔تناسخ کارڈ۔دیانند جی کی تعلیم مردہ کو جلانے کے متعلق نا قابل عمل ہے ان کی باتوں میں تضاد ہے۔نجات ابدی ہے۔پر میشر قادر مطلق ہے،غربت وامارت اور نا امراض اور کیڑے مکوڑے کے ہونے کا کیا سبب ہے۔ویدک دھرم کے اصول معرفت درست نہیں اور اس دھرم میں کتنی قسم کی شادی اور اولاد ہے۔اس طرح کے مسائل پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالنے کے علاوہ لیکھر ام کے متعلق پیش گوئی کی خوب وضاحت کی ہے اور حضرت مسیح موعود کے منجانب اللہ اور مستجاب الدعوات ہونے کا عمدگی سے اظہار کیا ہے۔حصہ دوم میں چند صفحات باوا نانک جی کے مذہب کے متعلق تحریر کئے ہیں اور کچھ صفحات مسلمانوں پر صداقت حضرت مسیح موعود آشکار کرنے کے لئے وقف کئے ہیں۔ان تمام حصص میں قرآن مجید سے استدلال کے علاوہ خود ستیارتھ پرکاش اور دید انسائیکلو پیڈیا اور ہندوؤں کی تصانیف نیز آریہ مسافر میگزین کے حوالجات بکثرت دئے ہیں حق یہ ہے کہ حق توضیح وتر دید خوب ادا کیا ہے۔تمام حصص کا سائز ۸/ ۲۶×۲۰ ہے۔حصہ اول ۱۰۰ صفحات - تاریخ تصنیف ۲۱ نومبر ۱۹۰۴ء قیمت چار آنه تعداد طبع آٹھ صد حصہ اول ( دوسری بار اپریل ۱۹۳۰ء میں طبع کی گئی ( سرورق ص ۲۱) صفحات ۱۲۰۔طبع دوم میں ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ۲۶ برس سے آریہ وغیرہ با وجود انعام کثیر پیش کئے جانے کے اس امر کا جواب نہیں دے سکے کہ قرآن مجید اور وید کے کسی مضمون یا مقام کا مقابلہ کر کے دیکھ لیں کون سی کتاب کامل تعلیم پیش کرتی ہے۔اور زندہ کہلانے کی مستحق ہے۔مثلاً نمونہ کے طور پر اول یا آخر کے کسی حصے کے ورق کا مقابلہ کر کے دیکھ لیں یقینا قرآن مجید ہی غالب آئے گا۔(سرورق ص۲)