اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 58 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 58

58 حصہ دوم۔تاریخ طبع ندارد البتہ صفحہ اتا ۱۰ میں ایک اشتہار کا ذکر کر کے جو جنوری ۱۹۰۳ء میں شائع کیا گیا تھا مرقوم ہے کہ وہ اس کتاب سے ایک سال قبل شائع ہوا تھا گویا سن تصنیف اس کتاب کا ۱۹۰۴ء ہوا۔خاکسار مؤلف کو طبع اول کا نسخہ نہیں مل سکا۔طبع دوم اپریل ۱۹۳۰ء کے بعد ( بحوالہ حصہ اول طبع دوم - سرورق ص ۹) صفحات ۱۲۸ سائز حسب سابق لیکن مضمون میں قدرے اضافہ ہے۔حصہ سوم تاریخ تصنیف ۲۷ / دسمبر ۱۹۰۴ء صفحات ۱۴۸ قیمت ساڑھے سات آنے۔حصہ چہارم۔تاریخ تصنیف ۴ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحات ۸۸۔اس کا نام ہے اختیار الاسلام حصہ چہارم یا تعلیم الاسلام بجواب رسالہ تہذیب الاسلام اول اس میں دھرمپال کی کتاب ” اختیار الاسلام کا جو چار صد صفحات کی تھی جواب رقم کیا ہے۔کیدونكر، مَا كَانَ لِنَتِي۔۔يثخن فِي الْأَرْضِ تَقْدِير ، عرش، آسمان، تاریخ، کیا خدا بلا وجہ جسے چاہے گا بخش دے گا۔کیا عذاب دوزخ دائمی ہے کیا اللہ تعالی گمراہ کرتا ہے اور امتحان لیتا ہے اور اس کی مشیت نہیں کہ سب ایمان لائیں۔مصائب کی وجہ کیا پہلے جنم کے گناہ ہیں، وغیرہ امور پر کافی وشافی روشنی ڈالی ہے۔دیباچہ میں آپ لکھتے ہیں کہ تین حصص کے بعد اور کچھ لکھنے کی ضرورت نہ تھی لیکن جب لالہ دھرمپال نے نہایت بے دردی اور ظالمانہ طور سے اسلام اور بانی اسلام علیہ السلام کی تو ہین اور تکذیب کی کہ اسے پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور دل پاش پاش ہوتا ہے اور بے اختیار آنکھوں سے آنسو ڈبڈبا آتے ہیں تو لامحالہ بخوف معصیت دھرم پال کی بے جا افترا پردازیوں اور ناپاک تحریروں کا نہ صرف جواب دینا پڑا بلکہ رسالہ ہذا کا ضمیمہ تحریر کرنا از بس ضروری ہوا جس میں ان کے اصول کاذبہ اور سوامی دیانند سرسوتی کی تحریروں کا تمام تار و پود اور شیرازہ ادھیڑ دیا گیا تا کہ انہیں معلوم ہو کہ خود ان کے گھر میں کیا ہے جو دوسروں پر ناحق در انتی کی طرح زباں دراز کی جاتی ہے۔“ ضمیمہ اس پر تاریخ درج نہیں لیکن حصہ چہارم کے دیباچہ میں اس کا ذکر ہے گویا کہ حصہ چہارم کے عرصہ تصنیف کے قریب یہ بھی تصنیف ہوا۔ص ا پر اشتہار میں اس کا پورا نام ضمیمہ تعلیم الاسلام یا آر یہ مذہب پر اعتراضات اور ضمیمہ کے صفحرص ۳ پر اس کا نام ضمیمہ رسالہ تعلیم الاسلام یا آر یہ مذہب مرقوم ہے (۳۵) خدا کا مسیح اور اس کا وصال جیسا کہ نام سے ظاہر ہے حضرت مسیح موعود کے وصال کے بارے میں اعتراضات کے شافی جوابات پر مشتمل ہے۔اعتراضات مثلاً حضور کی وفات قبل از وقت ہوئی یا وقت مقرر پر خدا تعالیٰ کو ٹھیک ٹھیک عمر کا پتہ تھا تو صحیح تاریخ وفات کی اطلاع کیوں نہ دی آپ کو چالیس سال تبلیغ کرنا تھی ابھی آپ کا کام پورا نہیں ہوا۔مباہلہ میں کون کون سے نامی علماء ہلاک ہوئے اگر وہ ہلاک ہوئے تو ثناء اللہ امرتسری اور