اصحاب احمد (جلد 7) — Page 21
21 کر دیہات میں اناج کے بدلے بمشکل تمام فروخت کرتا۔پھر حضرت مسیح موعود کی برکات کا ذکر کر کے قادیان کی ترقی بیان کرتے ہیں۔کس طرح عرب، طرابلس ، کابل ، غزنی، بخارا، قندھار، بغداد، چین ،لندن تک سے لوگ آرہے ہیں، جو زمین پانچ میں بھی کوئی نہیں خریدتا تھا۔اب بخوشی پچاس میں خریدتے ہیں۔چھاپے خانے جاری ہیں کبھی وہ وقت تھا کہ حضرت اقدس نماز پڑھایا کرتے تھے اور کبھی میں ایک ہی مقتدی ہوتا تھا اور آپ امام اور کبھی میں امام اور آپ مقتدی اور اب یہ حال ہے کہ بہت سے مبارک لوگ اپنے گھر بار ملک و املاک چھوڑ کر امام علیہ السلام کی خدمت میں رہتے ہیں۔پیر صاحب نے کم و پیش تین درجن مہاجرین کے اسماء رقم کئے ہیں جن میں ماسٹر عبدالرحمن صاحب کا نام بھی درج ہے۔۱۹۰۲ء کے متعلق یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ ابھی یہاں پان کی کوئی دکان نہیں اس لئے قادیان آنے والے احباب میرے لئے پان لے آیا کریں میں قیمت ادا کر دیا کروں گا۔گوماسٹر صاحب کا زمانہ ہجرت ۱۹۰۰ ء ہے اور اس وقت آغا ز کی نسبت قادیان ترقی کر چکا تھا۔لیکن یہ ترقی نسبتی تھی۔اور اس ترقی یافتہ حالت پر بھی ایک تنعم و ترقی پسند اور دنیوی نعماء کا فریفتہ ہرگز قانع نہ ہو سکتا تھا ان ایام میں قادیان کی ملازمت فقیری اور درویشی اختیار کرنے کے مترادف تھی۔آپ نے گویا دین کو دنیا پر مقدم کیا اور حد درجہ کی کفایت شعاری اور صبر وشکر سے دن گزارے۔چنانچہ آپ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: میری کفایت شعاری ( کی عادت ) ہمیشہ سے رہی ہے اسی کی بدولت میں بچوں کو میں روپے کی تنخواہ پر پالستار ہا اور تعلیم دلاتا رہا اور باہر کی نوکری پر قادیان کی نیک صحبت کو ترجیح دیتا رہا۔گھر میں دوٹوٹی پھوٹی کرسیاں تھیں اور صرف ایک لوٹا تھا۔تین سال سے کوئی بوٹ نہیں لیا۔صرف ربڑ کے سلیپر پر گزارہ کیا۔چارسال سے مکان کی سفیدی نہیں کر اسکا۔کبھی جرابیں نہیں خریدیں۔گھر میں صرف ایک تولیہ ہے جو مہمانوں کے لئے ہے سن لائٹ صابن کبھی کبھی منگواتے ہیں ور نہ کپڑے دھونے والا صابن ہی استعمال ہوتا ہے“ احباب کو یاد ہوگا کہ بٹالہ قادیان کی سڑک کے پختہ کرنے کے متعلق حکام سے ہمیشہ ہی درخواست کی جاتی رہی ہے چنانچہ حضرت عرفانی صاحب نے دسمبر ۱۹۰۵ء میں لکھا ہے: ” سڑک بٹالہ پرنئی مٹی ڈال دی گئی ہے۔مگر جب تک اس حصہ کو پختہ اور اونچا نہ کیا جاوے گا اس کی موجودہ حالت برسات میں آرام دہ ہونے کی بجائے تکلیف دہ ہوگی، (16) جنوری ۱۹۱۲ء میں پانچ سال میں پہلی بارڈپٹی کمشنر ضلع قادیان آنے والے تھے۔متوقع آمد کے پیش نظر اس امر کی طرف آپ نے پھر توجہ دلائی (17) میجر ایلیٹ ڈپٹی کمشنر کے قادیان کے دو روزہ قیام کے موقع پر حضرت عرفانی صاحب نے قادیان کی