اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 20 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 20

20 محمد خاں افضل خان نتیجه امتحان پھر دوسری مرتبہ الہام ہوا سبع معالقہ، جس کا آپ نے حضرت مسیح موعود سے ذکر کیا۔حضور نے فرمایا تم پاس ہو جاؤ گے مگر زیر تجویز رہ کر پاس ہو گے کیوں کہ سات کا لفظ تکمیل کو چاہتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ زیر تجویز رہ کر ایف اے میں پاس ہو گئے۔امتحان کا نتیجہ لاہور سے حضرت مولوی نورالدین صاحب خود لے کر آئے تھے۔ہجرت اور قادیان میں ملا زمت: میٹرک میں کامیابی پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے آپ کو قادیان کے مدرسہ کی کا رکنیت اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔چنانچہ ایف اے کا امتحان پاس کر لینے کے بعد آپ ۱۳ مئی ۱۹۰۰ء کو میں روپے مشاہرہ پر ہائی اسکول قادیان میں ملازم ہو گئے۔۱۹۰۴ء میں قادیان سے آپ نے بی اے کا امتحان دیا لیکن طویل عرصے کے بعد کامیاب ہوئے۔تقسیم ملک کے بعد اجیت سنگھ ڈھلوں بی اے کے احمدی ہونے پر ان کے نام ایک مکتوب میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ماسٹر صاحب کا ذکر کر کے تحریر فرمایا کہ انکو الہاماً بتایا گیا تھا کہ آپ بی اے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن جب بھی وہ فیل ہوتے تو یہ سمجھتے کہ الہام سچا ہے میری کسی غلطی کی وجہ سے پورا نہیں ہوا۔انسپکٹر مدارس کی سفارش پر ۱۹۰۷ء میں آپ کو لاہور ٹرینگ کے لئے بھیجا گیا۔مدرسہ تعلیم الاسلام سے طویل عرصے کے بعد آپ کی خدمات مدرسہ احمدیہ میں منتقل ہوئیں اور بالآخر وہاں آپ پنشن تک کام کرتے رہے۔بعد پنشن بھی دو دو تین تین ماہ کے لئے آپ کو مدرسہ میں لگا لیا جاتا تھا۔فرماتے تھے کہ میرا عرصہ مدرسی چوالیس سال بنتا ہے۔جس وقت آپ نے ہمیشہ کے لئے قادیان کے قیام کو اختیار کر لیا ، اس وقت قادیان کی کیا حالت تھی ، اس کی ایک جھلک حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے پانچ صفحات کے ایک مفصل مضمون سے ظاہر ہے جو الحکم مؤرخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ء میں شائع ہوا۔اس میں پیر صاحب نے ۱۸۸۲ء سے جب کہ آپ پہلی بار قادیان آئے ،۱۹۰۲ ء تک کے قادیان کا نقشہ کھینچا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ ابتدا میں قادیان میں دو چار پیسے کا مصالحہ دستیاب ہونا بھی مشکل ہوتا تھا۔حلوائیوں کی دود کا نہیں تھیں جن سے شاید دو تین پیسے کی ریوڑیاں گڑ کی جن سے دانتوں کے بھی ٹوٹنے کا احتمال ہوا اگر کوئی خرید لے تو خرید لے۔گھی چاول دودھ کمیاب اور اشیاء ضروری مفقود - قصائی شامت اعمال سے بکرا ذبح کر لیتا تو وبال جان ہوتا۔گرمیوں میں گل سڑ کر خراب ہو جاتا اور موسم سرما میں چار پانچ روز رکھ