اصحاب احمد (جلد 7) — Page 228
چوہدری برکت علی برکت علی خاں مرحوم 227 رقم فرمودہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی ) جیسا کہ احباب کو الفضل سے علم ہو چکا ہے چوہدری برکت علی خاں صاحب سابق وکیل المال وفات پاگئے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - چوہدری صاحب مرحوم جو غالبا گڑھ شنکر ( ضلع ہوشیار پور ) کے رہنے والے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔اولاً انہوں نے قادیان میں آ کر کچھ عرصہ اخبار الحکم میں کام کیا اور پھر صدرانجمن احمدیہ کے عملہ میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لئے نوکر شاہی بن گئے اور اس خدائی نوکری کو انہوں نے زائد از پچاس سال اس اخلاص اور جان نثاری اور وفاداری اور محبت سے نبھایا جو ہر احمدی کے لئے قابل رشک ہے میں نے ایسے بے ریا اور جانفشانی سے کام کرنے والے بہت کم لوگ دیکھے ہیں۔مجھے امید ہے کہ خدا انہیں اس پاک گروہ میں داخل فرمائے گا جن کے متعلق وہ فرماتا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَه، (26) وہ انتہائی عمر تک جب کہ وہ قریباً ۸۰ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اس والہانہ جذبہ کے ساتھ کام کرتے تھے کہ دل سے دعا نکلتی ہے۔ان کا آخری کارنامہ پانچ ہزار مجاہدین تحریک جدید کی کتاب کی تیاری اور اشاعت تھی۔ابھی چار پانچ دن کی بات ہے جب کہ وہ بے حد کمزور ہو چکے تھے اور ان کے آخری سانس تھے۔انہوں نے میاں عزیز احمد صاحب ایم اے ناظر اعلیٰ کی زبانی مجھے یہ پیغام بھجوایا کہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی وفات سے جو خلا تبلیغ کے میدان میں پیدا ہوا ہے اسے جس طرح بھی ممکن ہو پورا کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ سلسلہ کے تبلیغی کام میں روک نہ پیدا ہو۔میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چوہدری برکت علی خاں صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کی اولا د کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور جماعت کو ان کا بدل عنایت کرے آمین یا ارحم الراحمین۔چوہدری صاحب کو جنازہ بھی ایسا نصیب ہوا جو بہت کم لوگوں کو میسر آتا ہے کیونکہ ایک تو جمعہ تھا اور دوسرے مشاورت کی وجہ سے بیرونی مہمان بھی بڑی کثرت سے آئے ہوئے تھے۔( حضور کی پسندیدگی (27) سید نا حضرت خا یہ زمانہ ہمارے لئے نہایت نازک ہے مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور میں اٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں۔غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطر ناک پیش آرہے ہیں بلکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم بیان نہیں کر سکتے۔مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول یاد آتا ہے۔کسی نے ان سے کہا خالد کو آپ نے کیوں معزول کر دیا۔آپ نے فرمایا تم اس کی وجہ پوچھتے ہو اگر میرے دامن کو بھی پتہ لگ ضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ الہ تعالی مشاورت منعقدہ ۱۹۳۵ء میں فرماتے ہیں۔