اصحاب احمد (جلد 7) — Page 214
214 سے ایک یا ایک سے زیادہ سالوں کا چندہ واجب الادا ہے وہ یا تو اپنے وعدوں کو جلد سے جلد باور کر لیں یا ہم سے معافی لے لیں یا اپنے نام فہرست سے کٹوا لیں تا کہ نہ تو خود گنہ گار ہوں اور نہ صیح لسٹ کے متعلق ہمیں دھوکا لگئے۔چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس اعلان کے ہونے پر اکثر احباب نے اپنے وعدے پورے کر دیئے اور فہرست پانچ ہزار پوری ہوگئی۔حضور نے فرمایا کہ بقایا کی وصولی کے لئے ایک کلرک رکھ لوں۔چنانچہ میں نے سید منم الحسن صاحب کو رکھ لیا جنہوں نے خدا تعالیٰ کی توفیق سے بقایا کی وصولی میں دل و جان سے کوشش کی اور جب چندہ تحریک جدید انہیں سال تک بڑھا دیا گیا تو وصولی کے لئے جد و جہد کرتے رہے حتیہ آخر پر میں نے ان کو انیس سالہ رجسٹر مکمل کرنے کے لئے مقرر کیا۔انہوں نے اس کی تکمیل کے ساتھ بقایا صحیح طور پر نکالنے اور اس کی وصولی کے لئے بڑی محنت سے کام کیا اور انیس سالہ کتاب کی اشاعت میں میری بہت مدد کی۔الحمد للہ کہ کتاب میں ۶۲۰ ۵ ( پانچ ہزار چھ سو بیس ) احباب کے نام شائع ہوئے۔اللہ تعالیٰ ان کو ان کی اس محنت اور کارکردگی کا اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین تحریک جدید سے پینشن : چوہدری صاحب ۱۹۵۸ء میں تین ماہ تک سخت بیمار رہے۔محترم وکیل اعلیٰ نے ۲۹ مارچ ۱۹۵۸ء کو حضور ایدہ اللہ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی اور ذیل کا فیصلہ مجلس تحریک جدید میں ہوا۔رپورٹ وکیل اعلی کہ مکرم چوہدری برکت علی خاں صاحب وکیل المال ایک عرصہ سے بیماری کی وجہ سے رخصت پر ہیں ان کی عمر بھی ریٹائرمنٹ کی عمر سے زیادہ ہو چکی ہے اس لئے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے منظور فرمایا ہے کہ ان کو ۵۸-۴۔اسے ریٹائر کر دیا جائے۔“ مکرم چودھری صاحب آخر ۱۹۳۴ ء سے تحریک جدید کا کام کر رہے ہیں اور قواعد کے مطابق ان کو /۷۲/۸ روپیہ پنشن مل سکتی ہے لیکن ان کی خدمات کے پیش نظر حضور نے منظور فرمایا ہے کہ ان کو ایک سور و پیہ پنشن دے دی جائے مجلس میں ریکارڈ کے لئے پیش ہے ان کا پراویڈنٹ فنڈ مع منافع ان کو ادا کر دیا جائے۔“ محترم چوہدری صاحب تحریک جدید کے شروع سے ہی تحریک جدید کا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے جس تندہی سے کام کیا ہے وہ عیاں ہے۔یقیناً ان کی بیماری اس محنت شاقہ کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جلد سے جلد صحت کامل اور لمبی عمر عطا فرمائے۔ان کی خدمات قابل صد شکر یہ ہیں اور مجلس اپنے اس اعتراف کو