اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 184 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 184

184 اصحاب نے کہا کہ ہاں۔حضور ہمیں یاد ہے کہ حضور نے اس طرح فرمایا تھا۔خاکسار کو ان میں سے ایک کا نام تو یاد ہے کہ وہ شیخ یعقوب علی صاحب تھے باقیوں کے متعلق یاد نہیں کہ وہ کون کون صاحب تھے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اب مجھے پھر یہی دکھایا گیا ہے کہ اس چھوٹی مسجد سے لے کر بڑی مسجد تک مسجد ہی مسجد ہے۔(۲) قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے سنایا کہ سردار فضل حق صاحب (*) ساکن دھرم کوٹ کے اسلام لانے کا واقعہ ہمارے سامنے ہوا تھا جب سردار صاحب عید کے دن قادیان آکر مسلمان ہوئے اور اس کے بعد کچھ دن قادیان ٹھہرے تھے ان کے دیگر رشتہ داران اس عرصہ میں چڑھائی کر کے آئے اور ان کو اسلام سے ہٹا کر واپس سکھ مت میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔چنانچہ ایک دن ایک جتھہ سکھوں کا آیا جس میں بوڑھے بوڑھے اور اپنے مذہب کے واقف لوگ بھی تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں فروکش تھے۔وہ لوگ بھی مسجد مبارک میں ہی آگئے اور غیظ و غضب سے بھرے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔انہوں نے اسلام پر اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ مر جاجی ! ہمیں یہ بتاؤ کہ جس ملک میں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہوتی ہے وہاں مسلمان کیا کریں گے اور چھ مہینے کا روزہ کس طرح رکھ سکیں گے اور نمازوں کے وقت کس طرح معلوم کریں گے۔یہ سوال انہوں نے اپنے خیال میں عقدہ لا یخل سمجھ کر پیش کیا۔لیکن حضرت اقدس نے نہایت آسانی کے ساتھ فوراً جواب دیا کہ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔لہذا اگر انسان چھ مہینے کا روزہ نہیں رکھ سکتا تو نہ رکھے۔اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں۔رہا نماز کے وقتوں کا سوال۔سو آج کل تو گھڑیوں کے ذریعہ نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں اور دن اور رات کا اندازہ بھی اس مقام پر مشرق اور غرب کے لحاظ سے کیا جاسکتا ہے۔اس پر وہ سکھ خاموش اور لا جواب ہو گئے اور جو اعتراض کا پہاڑ بنا کر وہ لائے تھے وہ حضور نے ذراسی پھونک سے ہی اڑا دیا۔(20) (۳) قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے مجھ سے ذکر فرمایا کہ اگر چہ حضرت مولوی نورالدین صاحب علم طب میں بہت کمال رکھتے تھے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات کسی طبی مسئلہ میں ان کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اختلاف ہو جاتا تو تبادلہ خیال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دلائل کے لحاظ سے مولوی صاحب پر غالب ہی آجاتے تھے اور مولوی صاحب کو لا جواب ہو کر آخر کا ر قائل ہی ہونا پڑتا تھا۔2 (21) ☆ (22) (از مؤلف ) سردار صاحب کا پہلا نام سند رسنگھ تھا اور وہ ۱۲/ نومبر ۱۸۹۹ء کو اسلام قبول کر کے جماعت میں داخل ہوئے رض تھے۔