اصحاب احمد (جلد 7) — Page 158
158 سنت محمدی ہے اور آپ بھی خلیفہ محمدی ہیں۔میرے اس جواب پر حضور علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور خوشی کے رنگ میں میرا وہ پنجہ جو حضور کے ہاتھ میں تھا۔قدرے دبایا۔چلتے چلتے آگے ایک اور اونچی جگہ پر ہم جاچڑ ھے جو بیٹھک کی شکل پر معلوم ہوتی ہے۔اس کی جانب جنوب تین دریچے ہیں۔وہ وقت دن کا معلوم ہوتا ہے۔ان در بیچوں میں کسی قدر دھوپ بھی اس کمرہ کے اندر آرہی ہے۔وہاں جا کر حضرت صاحب جانب غرب دوزانو ہو کر مشرق کی طرف منہ کرتے ہوئے بیٹھ گئے میں حضور کے سامنے مغرب کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا ہوں۔حضور نے ایک تنکا اٹھا کر میرے ہاتھ کی پشت پر ایسے طور سے پھیرا کہ اس سے پانچوں انگلیوں کی پشت کی جانب سفید سی لکیر پڑ گئی جیسا کہ خشک چمڑے پر لکیر پڑ جاتی ہے۔اس لکیر کی شکل کی طرف اشارہ کر کے حضور علیہ السلام نے مجھے فرمایا کہ دیکھا یہ کیا لکھا گیا ہے۔یہ اللہ کا لفظ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ہاتھ کو بھی اسی شکل پر بنایا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوقَ أَيْدِيهِمُ (4) اور اس طرح سے مجھ پر یہ امر واضح فرمایا ہے کہ میرے ہاتھ پر بیعت کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کرنا ہے۔اس رویا کے دیکھنے کے وقت میں نے قادیان کو دیکھا ہوا نہ تھا اور نہ ہی مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک کی شکل اور ہیئت اور جائے وقوع سے آشنا تھا بلکہ اس کے پانچ سال بعد جب کہ خاکسار نے دستی بیعت کا شرف خود قادیان میں آکر حاصل کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ پہلی مسجد جو کہ چھت کے قریب اونچی جگہ پر تعمیر شدہ دیکھی تھی اور جس کے صحن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وعظ کرتے ہوئے دیکھا تھاوہ مسجد اقصیٰ تھی جس کا نقشہ مجھے پانچ سال قبل دکھایا گیا اور وہ دوسری جگہ جو بیٹھک کے طور پر تھی جس کے جانب جنوب تین دریچے دیکھے گئے تھے اور جس میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاکسار کی بیعت لی تھی اور بیعت کی حقیقت بھی مجھے سمجھائی تھی وہ در اصل مسجد مبارک کا نقشہ تھا جو اس زمانے میں بیٹھک کے اندازہ کے برابر ہی تھی اور خاکسار کو دستی بیعت خدا کے فضل و کرم سے اکیلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسی مسجد مبارک میں جب کہ حضور مسجد کے مغرب کی جانب بطرف مشرق رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے نصیب ہوئی تھی۔غرضیکہ وہ نقشہ مقامات کا قریب وہی تھا جو خاکسار کو بذریعہ رؤیا پہلے دکھایا گیا تھا۔۲۔اس سے قبل فروری ۱۹۰۰ء میں بمقام بھیرہ خاکسار کورویا میں دکھلایا گیا تھا کہ میں قادیان میں گیا ہوں اور حضرت مرزا صاحب کا گھر پوچھ رہا ہوں۔آخر ایک گھر میں داخل ہو کر ایک شخص سے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب کا گھر یہی ہے اس نے کہا کہ ہاں پھر انہوں نے میرا اسباب لے کر اندر رکھ لیا اور میں پاس کی ایک چھوٹی سی مسجد میں نماز ظہر ادا کرنے کے لئے چلا گیا وہاں جا کر مجھے خیال آیا کہ (حضرت ) مرزا صاحب کے خاندان