اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 149 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 149

149 مرزا صاحب نے اس کے متعلق کہا تھا کہ اگر آئتم فلاں تاریخ تک نہ مرا تو میرے گلے میں رسی ڈال دینا ، مجھے پھانسی چڑھا کر مار دینا اور آگے پھر اسی سلسلہ میں ایک شعر کا مصرعہ یہ بھی تھا۔کئی مرزا ترے الہام کی دُم وغیرہ وغیرہ من الخرافات۔اگر چہ اس وقت میں احمدی نہیں تھا لیکن چونکہ میرے سامنے قاضی صاحب ہمارے گھر میں آکر حضرت مرزا صاحب کا ذکر بڑی تعریف سے کیا کرتے تھے اور میرے گھر کے دیگر احباب ان سے متاثر ہو کر حضرت مرزا صاحب میں ایک طرح کی عقیدت رکھتے تھے اس لئے مجھے اس اشتہار کو پڑھ کر بہت ندامت ہوئی اور افسوس اور صدمہ بھی ہوا کہ کیوں ایسا ہوا اور حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔چنانچہ میں اس اشتہار کی ایک کاپی ہمراہ لے آیا اور اپنے والد صاحب کو دکھائی۔وہ بھی حیران اور ششدر ہی ہو گئے آخر جلدی ہی قاضی صاحب ہمارے گھر تشریف لائے اور ہم نے ان سے اس کی بابت دریافت کیا تو قاضی صاحب نے پیشگوئی کے الفاظ کی طرف توجہ دلائی اور پھر آتھم کے رجوع بحق ہونے کے قرائن بیان کئے جس سے ہمارا اطمینان ہو گیا کہ پیشگوئی درست نکلی۔اس کے بعد قاضی صاحب نے وہ تمام اشتہار جو یکے بعد دیگرے آتھم کے خلاف انعامی ایک ہزار دو ہزار تین ہزار اور چار ہزار کے نکالے تھے وہ بھی ہمارے پاس پہنچائے تو معاملہ بالکل واضح ہو گیا۔(3) (۲) ” میرے والد صاحب کی زندگی میں مولوی امام الدین صاحب ساکن بھڑی شاہ رحمان ضلع گوجرانوالہ نے بھی حضرت مرزا صاحب کی بیعت کی تھی۔چونکہ ہمارے والد صاحب بھی دراصل حضرت صاحب کے دل سے معتقد ہو چکے تھے اس لئے مولوی امام الدین صاحب کے ساتھ بھی ان کا دوستانہ تعلق ہو گیا تھا اور مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ مولوی امام الدین صاحب موضع کوٹ بھوانی داس میں ایک مناظرے میں شریک ہونے کے واسطے جا رہے تھے تو راستہ میں ہمارے گھر میں ٹھہرے۔یہ مناظرہ فیما بین اہلحدیث و حنفی علماء کے تھا۔اہل حدیث کے مناظر حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی تھے اور ان کے معاونین مولوی عبد القادر صاحب و مولوی عبد العزیز وغیرہ پسران مولوی غلام رسول صاحب قلعه مهمان سنگھ والے اور مولوی احمد علی اور مولوی زین العابدین مدرس مدرسه عربیہ حمید یہ لاہور تھے۔دوسری جانب آتھم والی پندرہ ماہ کی میعاد۵ ستمبر۱۸۹۴ء کوختم ہوئی تھی ( مولف)