اصحاب احمد (جلد 7) — Page 137
137 پر عام طور سے ہوا کرتا ہے۔انہوں نے خیال کیا تھا کہ یا تو اس عاجز کو بھیڑ یا اٹھا کر لے گیا ہے یا کسی ندی نالے میں ڈوب کر مر گیا ہے۔میری مادر مہربان کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔وہ بیچاری دیوانہ وار کلاس فیلوں کے گھروں میں پھرتی تھی اور میرے ہم مکتب لڑکوں کو طمع دیتی تھی تا کہ کسی سے میرا پتہ لگے لیکن کسی کو میری جائے رہائش سے مطلق اطلاع نہ تھی۔مگر وہ بے چاری مامتا کی ماری ہر روز مدرسہ میں جاتی اور زار زار روتی اور جہاں میں بیٹھ کر پڑھا کرتا تھا وہ غم کی ماری اس جگہ کو اپنے لخت جگر سے خالی دیکھ کر آہیں بھر کر اور کلیجہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر رہ جاتی تھی مگر کچھ نہ بنتا تھا۔غرض اس طرح محبت و مامتا کی گرفتار رات دن رونے پیٹنے میں گزارتی تھی اور قریب تھا کہ صدمات ہموم و عموم سے دماغ میں فتور آجاوے کہ میرا خط جا پہنچا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ آپ کسی طرح کا فکر اور اندیشہ نہ کریں میں خیریت سے ہوں مگر مسلمان ہو گیا ہوں۔اس خط خیریت خط کے پہنچنے سے والدہ صاحبہ کی جان میں جان آگئی اور سال بھر کا دکھ درد جو رونے پیٹنے سے ان کو پہنچا تھا وہ سب خواب و خیال ہو گیا اور بڑی خوشی و شادمانی منائی گئی اور تمام رشتہ داروں کو جو دور ونزدیک رہتے تھے کہلا بھیجا کہ مردہ پھر زندہ ہو گیا ہے اور اتنی خوشی وخرمی حاصل ہوئی کہ میرے مسلمان ہونے کے صدمے کو بالکل محسوس و مشہود نہ کیا بلکہ سارا کنبہ جو تعداد میں انہیں مرد اور عورتیں تھیں سب کے سب خوش ہو گئے۔مگر تیسرے چوتھے روز کے بعد یاد آیا کہ خط کو پھر دوبارہ پڑھ کر معلوم کرو کہ یہ عاجز کہاں بود و باش رکھتا ہے۔لیکن اس عاجز نے ارادتا اپنا پورا پتہ تحریر نہ کیا تھا کیونکہ اس میں مصلحت یہی تھی کہ کسی موزوں موقع پر ملاقات کے لئے ان کو اتار چڑھاؤ دے کر راضی کریں تا کہ وہ جبر اور اکراہ سے اس عاجز کو تنگ نہ کر سکیں۔آخر کار دو سال کے بعد جناب مکرم مولوی خدا بخش صاحب کی معرفت ایک عہد نامہ ہوا جس کی رو سے یہ قرار پایا کہ اگر والدین کسی طرح اس عاجز کو کفر کی طرف واپس کرنے کے لئے مجبور نہ کریں گے اور جہاں چاہے اس کو رہنے کی اجازت دیں گے اور جس مذہب میں رہنا پسند کرے اس میں اس کو رہنے کی مخالفت نہ کریں گے تو یہ عاجز گھر والوں کی ملاقات کے لئے آسکتا ہے ورنہ تمام عمر کسی رشتہ دار کومنہ دکھانے کاروادار نہ ہوگا۔پہلی ملاقات جب یہ بات پخت و پز ہو چکی تو میں گھر آیا۔ابھی یہ عاجز گھر سے ڈیڑھ میل پر ہی تھا کہ جناب والدہ صاحبہ بوجہ کمال شفقت مادری کے وہیں مجھے ملنے کے لئے تشریف لائیں اور گلے لگا کر اس قدر روئیں کہ آنسوؤں سے ان کا کرتہ تر ہو گیا اور میری آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑے اور میں نے کہا کہ اب تم کیوں روتی ہو۔جس کی تم خواہش کرتی تھی وہ آخر حاصل ہوگئی۔اب رونے سے کیا فائدہ؟ مگر اس بات کا ان پر کیا اثر ہوسکتا تھا۔آخر میں گھر پر گیا اور بھائی اور بہنیں رورو کر ملیں۔یہ ایسا دردناک نظارہ تھا کہ اس کو یاد کر کے اب بھی دل میں درد پیدا ہو جاتا ہے اور چشم پر آب ہو جاتی ہیں۔اس ملاقات میں کوئی بحث اور مباحثہ پیش نہیں آیا صرف نرمی اور نیک اخلاق کے