اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 113 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 113

113 موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا قہری نشان لاہور میں دکھایا گیا ہے (یعنی لیکھرام کے قتل کا نشان ) جس سے لوگوں نے فائدہ نہیں اٹھایا لیکن خدا تعالیٰ کی اس طور پر عادت جاری ہے کہ وہ سزاد ینے میں دھیما ہے جب تک پوری طرح اتمام حجت نہ ہو جائے وہ سزا کو روکے رکھتا ہے۔رہے تھے نوٹ : سمیران ایام کا ذکر ہے جب حکیم محمد حسین صاحب قریشی لاہور میں اپنا عظیم الشان مکان بنوا (113) () (۲۸) حضور علیہ السلام اپنے مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔مہمان بھی کوئی زیادہ نہیں ہوتے تھے۔مگر جتنے بھی ہوتے تھے سب کے سب حضور علیہ السلام کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔کھانا گھر سے پک کر آجا تا تھا بعض اوقات حضور خود لاتے تھے۔بعض دفعہ کوئی خادمہ لے آتی تھی حضور علیہ السلام کھانا نہایت آہستہ آہستہ تناول فرماتے تھے۔لیکن جتنی دیر تک مہمان کھاتے رہیں حضور بھی کھاتے تھے۔اس تمام عرصہ میں صرف ایک آدھی روٹی حضور کی غذا تھی۔مہمان اچھی طرح سیر ہو جاتے تھے مگر حضور صرف ایک یا نصف روٹی پر ہی اکتفا فر ماتے۔(۲۹) ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا ذاتی خرچ بالکل تھوڑا ہے میں ایک پیسہ روزانہ میں بھی گذارا کر سکتا ہوں زیادہ فکر مہمانوں کی ہوتی ہے۔سوان کے لئے اللہ تعالیٰ خود بھیج دیتا ہے۔(۳۰) ایک مرتبہ ایک شخص نے عرض کی کہ حضور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ** نے کہا ہے کہ میں تو مرزا صاحب کو کبھی نہ مانوں گا خواہ خدا بھی آسمان سے اتر کر یہ کہے کہ مرزا سچا ہے مان لوتب بھی میں نہ مانوں گا۔تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: دیکھو یہ لوگ میری مخالفت میں اندھے ہو گئے۔اور میری مخالفت نے ان کی عقلوں کو بھی کند کر دیا ہے۔انبیاء کا تو یہ قاعدہ ہے کہ وہ خدا کا خانہ خالی چھوڑتے ہیں۔قرآن کریم میں ایک نبی کا ذکر آتا ہے کہ اس کو مخالفین نے کہا کہ ہم تجھ کو اس وقت تک تکلیف دینے سے باز نہیں آئیں گے جب تک کہ یا تو تو مر جائے یا پھر ہمارے مذہب میں واپس لوٹ آئے۔دیکھو اس نبی نے یہ نہیں کہا کہ اگر خدا بھی آکر کہے تو بھی میں نہ پھروں گا بلکہ اس نے جواب میں فرمایا۔الا ان يشاء الله - اچھا اگر خدا کو بھی یہی منظور ہوگا تو ایسا ہی سہی مگر یہ میرے مخالفین نبیوں سے بھی بڑے بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر خدا بھی کہے تب بھی نہیں مانیں گے اور خدا کا خانہ بھی خالی نہیں چھوڑتے۔☆ لاہور کے متعلق متعد دصحابہ کرام کی روایات مکرم مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر (حال انچارج شعبہ زود نویسی ربوہ) کی طرف سے اس پر چہ میں درج ہے۔نیز ملاحظہ فرمایا جائے۔تذکرہ طبع ۲۰۰۴ص۶۷۶ از مؤلف مولوی مذکور کی قبر عیسائیوں وغیرہ کے قبرستان میں تھی اب قریب کے عرصہ میں کسی جگہ بھرتی ڈالنے کے اس قبر والا لمبا چوڑا قطعہ کھود کر لے جایا گیا ہے فاعتبروا۔