اصحاب احمد (جلد 7) — Page 109
109 (۱۸) میاں چراغ دین صاحب چپڑاسی جو آج کل ربوہ میں مہاجر ہو کر مقیم ہیں بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۳ء کے قریب حضرت اقدس اپنے بچوں اور حضرت ام المومنین کو لے کر قادیان سے مشرق کی طرف سیر کے لئے جایا کرتے تھے (ایک دفعہ ) ایک بچے کو میں اٹھا کر ساتھ جا رہا تھا اس وقت حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مشرق کی طرف سے ریلوے انجن کی سیٹی کی آواز آئی ہے۔کیا تم نے بھی سنی۔۲۳-۲۴ سال بعد ادھر ہی موضع بھینی کے مشرق کی طرف ریل آگئی۔اور اس سے پیشتر حضور نے اپنی رویا بیان فرمائی تھی کہ میں ریل گاڑی میں سوار ہو کر قادیان آیا ہوں اور ☆ گاڑی بازار قادیان میں کھڑی ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ آگے سری گوبند پور کی طرف ریل ابھی نہیں جائے گی۔(۱۹) یکم اپریل ۱۹۰۴ء کو تین آریہ صاحبان حضرت اقدس کی زیارت کے لئے حاضر خدمت ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ آج کل جو آریہ سماج کا جلسہ ہوگا۔اس میں کوئی ایسا صاحب بھی آیا ہے جو سنسکرت کا عالم فاضل ہو اور وید پڑھا ہوا ہو۔آریہ صاحبان نے کہا کہ ابھی تک کوئی ایسا آدمی نہیں آیا لیکن کل ۲ اپریل کو اپر بیشک آویں گے ( یہ نہیں کہا کہ وید کا عالم اور سنسکرت کا فاضل آوے گا ) پھر آپ نے فرمایا کہ سچا مذ ہب وہ ہوتا ہے جس میں روحانیت اور کشش ہو اس کے بغیر کوئی مذہب قائم نہیں رہ سکتا۔جب تک یہ امر کسی مذہب میں نہ ہو، اس کا قیام ایسا ہوتا ہے جیسے ایک پیج پتھر پر ڈالا جاتا ہے جو بہت جلد نیست و نابود ہو جاتا ہے ذراسی آندھی چلی اور خاک اڑی اور پیچ گیا۔بیج نرم زمین میں ہو اور اس کی آب پاشی اخلاق فاضلہ سے کی گئی ہو۔تب بات بنے۔“ ( (108) " (۲۰) جموں میں ایک مولوی چراغ دین صاحب رہتے تھے۔انہوں نے ایک لمبا چوڑا اشتہار بھی شائع کیا تھا کہ جو کوئی مسیح موعود کی بیعت کرے گا وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔اور پھر اس نے دعوی کیا کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور پھر اس نے م میاں چراغ دین صاحب کی روایت بعد میں تذکر طبع ۲۰۰۴ ص ۶۹۰ پر طبع ہو چکی ہے کہ ایک دفعہ حضور میاں صاحب (یعنی حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب) کی انگلی پکڑ کر سیر کے لئے بسر اواں تشریف لے گئے جہاں پر آج کل چھپڑ ہے وہاں پہنچ کر فر مایا کہ دیکھو میاں گاڑی کی آواز آرہی ہے۔پھر آپ یہ کہ کر چل دیئے خدا کے فضل سے آج کل یہاں گاڑی کی آواز سنائی دیتی ہے۔(107) گو ماسٹر صاحب کی روایت میں قدرے سہو ہے لیکن اصل روایت ایک سی ہے۔دو فوائد کے لئے یہاں درج کی ہے ایک تو یہ کہ گویا میاں چراغ دین صاحب بی روایت عام طور پر بیان کرتے رہے ہیں دوسرے اس میں یہ ذکر ہے کہ کس سفر میں حضور نے یہ بات بیان فرمائی تھی۔