اصحاب احمد (جلد 7) — Page 106
106 عبدالرحمن ( مذکور ) قادیان سے باہر نہ گیا (اس پر ) حضور نے حکم دیا کہ مولوی صاحب اپنے بھتیجے کو قادیان سے نکال دیں ورنہ خود بھی چلے جائیں سو مولوی صاحب نے ایک مکمل بستر تیار کرا کے عبدالرحمن کو ( دے کر ) قادیان سے نکال دیا۔از مولف) سید نا حضرت خلیفہ محی الثانی ایدہ اللہتعالی اس بارہ میں بیان فرماتے ہیں: اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا اور کہا کہ اگر اتنے روپے دے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔۔۔۔جتنے روپے وہ مانگتا تھا اس وقت اتنے روپئے حضرت خلیفہ اول کے پاس نہ تھے۔اس لئے آپ کچھ کم دیتے تھے ، اس جھگڑے میں کچھ دیر ہوگئی چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی کہ وہ ابھی تک نہیں گیا اور قادیان میں ہی ہے۔اس پر حضرت صاحب نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کر دیں یا خود بھی چلے جاویں۔“ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن سخت آوارہ گرد تھا اور اس (104) کے متعلق شبہ کیا گیا تھا کہ ایسانہ ہو کہ وہ قادیان میں کسی فتنہ عظیم کے پیدا کرنے کا موجب ہو جائے۔(4) (۱۰) سعد اللہ نو مسلم لدھیانوی کے متعلق جو حضرت اقدس کی توہین و تکذیب میں اول درجہ کا مخالف اور ضدی تھا اس کی گندہ دہانی کے متعلق ڈاکٹر سرمحمد اقبال نے اپنی طالب علمی میں ایک نظم لکھی تھی ( مؤلف ) سعد اللہ کے متعلق حضور نے یہ الہام شائع فرمایا تھا کہ یہ شخص ابتر ہو جائے گا۔مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب وکیل نے حضور کو مشورہ دیا کہ اس کے ابتر ہونے کا الہام کتاب میں سے کاٹ دیا جاوے کیوں کہ ابھی سعد اللہ جوان ہے اور اس کا لڑکا بھی خاصی عمر کا ہے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ حضور پر عدالت میں دعوے دائر کر دے گا جس کا ہم دفعیہ نہیں کر سکیں گے۔حضور نے فرمایا اب تو ہم لکھ چکے ہیں۔اسے کاٹا نہیں جاوے گا۔اس وقت حضرت حکیم الامت نے فرمایارب اشعث اغبر لواقسم على الله لابره (105) چنانچہ الہام شائع ہوا۔اور سعد اللہ کے گھر بارہ سال تک کوئی بچہ پیدا نہ ہوا اور اس کا لڑکا بھی جوان ہوا اور اس کی شادی ہوئی مگر کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔(از مؤلف ) ۲۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو حضرت اقدس کو سعد اللہ کے متعلق الہام ہوا تھا۔إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (106) جنوری ۱۹۰۷ء میں وہ نمونیا پلیگ سے مر گیا اور اس کا اکلوتا بیٹا ۱۲ جولائی ۱۹۳۶ء کو لا ولد مر گیا۔امر زیر بیان کے متعلق روایت ۴۲ مندرجہ سیرۃ المہدی (حصہ اول) نیز ذکر حبیب ص ۱۵۶ قابل ملاحظہ ہو۔(11) حسین کا می ترکی سفیر نے حضور کو لکھا کہ میں قادیان آنا چاہتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ رات کو