اصحاب احمد (جلد 7) — Page 105
105 ” میرے متعلق ہی آتا ہے کہ رات کو میں رو رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اٹھا لیا اور چپ کرانے کے لئے کہا دیکھو وہ تارا ہے۔اس وقت میں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تارا لینا ہے (103) " (۴) سردار بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۲۵ دسمبر ۱۹۴۷ء کو مجھے والد صاحب نے حضرت اقدس کے گھر لے جا کر حضرت ام المومنین والا صحن دکھایا جس میں مسجد مبارک سے راستہ جاتا ہے۔اور بتایا کہ اس صحن میں حضور نے دونوں طرف آلوں میں یاد یوار میں دو دو دو تیں رکھی ہوئی تھیں اور ٹہلتے ٹہلتے تحریرفرمایا کرتے تھے جس طرف حضور جاتے ادھر سے قلم ڈبو لیتے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور! ہمیں تو بیٹھ کر بھی بڑی توجہ سے محنت کر کے اور سوچ سوچ کر لکھنا پڑتا ہے۔حضور چلتے چلتے کس طرح لکھتے ہیں حضور نے فرمایا کہ تبھی تو آپ لوگوں کی تحریر میں بیٹھی ہوتی ہیں۔(۵) حضور علیہ السلام اکثر سکھوں کو جو حضور کے مکان کے قریب بود و باش رکھتے تھے اور ہند و بیماروں کو قیمتی ادویہ دیا کرتے تھے جن ( کی خوشبو ) سے گلی مہک جاتی تھی۔(۶) جب آخری عمر میں حضور اقدس لاہور میں مقیم تھے اور مولوی محمد علی صاحب قادیان میں تھے تو مولوی صاحب نے کہا کہ لنگر خانے کا خرچ پہلے زیادہ کیا جاتا تھا اب کم ہوتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ لوگ تو میری ملاقات کے لئے لاہور آتے ہیں۔قادیان میں خرچ کیسے ہو؟ (۷) ایک دفعہ الہ دین صاحب فلاسفر کی کسی حرکت پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے فلاسفر صاحب کو کچھ سزا دی۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں شکایت کردی۔حضور نے فرمایا کہ مولوی عبدالکریم صاحب الہ دین صاحب سے معافی مانگیں ورنہ ( قادیان سے) چلے جائیں (چنانچہ مولوی صاحب نے ان سے معافی مانگ لی اور انہیں خوش کر لیا۔* (۸) ایک مرتبہ حضور مسجد مبارک میں چند اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے۔دوران گفتگو میں یک دفعہ ہی آپ اٹھ کر باہر چلے گئے اور ڈھاب میں کوئی ڈوب رہا تھا حضور سے باہر نکال کر پھر مسجد میں تشریف لے آئے۔(۹) حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کا ایک برادر زادہ مسمی عبدالرحمن تھا وہ آزاد ( منش ) اور ملنگ اور بھنگ وغیرہ کا عادی تھا۔کوئی ایسی ہی حرکت اس سے سرزد ہوئی اور بعض دوسرے افراد سے بھی ایسی کمزوریاں وقوع میں آئیں جن کی وجہ سے چند افراد کو حضور نے قادیان سے نکال دینے کا حکم دیا۔مگر اس بارہ میں روایت نمبر ۸۹ سیرۃ المہدی (حصہ سوم ) اور روایت حضرت مفتی صادق صاحب مندرجہ ذکر حبیب ص ۳۲۴ احباب ملاحظہ فرمائیں۔☆