اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 104 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 104

104 (۲)۱۱ دسمبر ۱۹۰۳ء (بروز جمعہ) کے متعلق البدر میں مرقوم ہے کہ: ذیل کی تقریر ماسٹر شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی نے ضبط کر کے اندراج اخبار کے واسطے ارسال کی ہے چونکہ میں (یعنی ایڈیٹر ) ان دنوں میں بیماری کی وجہ سے بہت کم حاضر مجلس ہوتا ہوں اس لئے ان کی اس عنایت کا کمال مشکور ہوں۔“ شام کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب نے کہا کہ دھرم پال (نوآریہ ) نے خلق طیور پر اور احیاء موتی پر بھی اعتراض کیا ہے اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اصل میں خلق طیور اور احیاء موتی پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اس سے ایسے پرندے مراد ہیں جن کا ذبح کر کے گوشت بھی کھایا جا سکے اور نہ احیائے موتی سے یہ مطلب ہے کہ حقیقی مردہ کا احیاء کیا گیا بلکہ مراد یہ ہے کہ خلق طیور اس قسم کا تھا کہ حد اعجاز تک پہنچا ہوا تھا۔اور احیائے موتی کے یہ معنی ہیں کہ (۱) روحانی زندگی عطا کی جاوے۔(۲) یہ کہ بذریعہ دعا ایسے انسان کو شفا دی جائے کہ وہ گویا مر دوں میں شمار ہو چکا ہو۔جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ فلاں تو مر کر جیا ہے۔لیکن ان باتوں کو لکھنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ان سے صاف طور پر پوچھا جائے کہ آیا کہ تم لوگ صورت اعجاز کے قائل ہو یا نہیں پس اگر وہ منکر ہیں تو ان کو چاہیے کہ اشتہار دید میں اور بہت صاف لفظوں میں دیں۔پھر شاید اللہ تعالیٰ کوئی اور کرشمہ قدرت دکھا دے اگر چہ ایک دفعہ وہ ان کو قائل بھی کر چکا ہے۔”ہم ان کی یہ باتیں فردا فردا نہیں سنتے کہ عصائے موسیٰ کیا تھا اور خلق طیور کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔خدا کا فضل ہمارے شامل حال ہے۔اور وہ ہر وقت ہماری تائید کے لئے تیار ہے۔وہ صورت اعجاز کا انکار شائع کر دیں پھر خدا کی تائید دیکھ لیویں۔قرآن کریم میں جس قدر معجزات آگئے ہیں ہم ان کے دکھانے کو زندہ موجود ہیں خواہ قبولیت دعا کے متعلق ہوں خواہ اور رنگ کے معجزہ کے منکر کا یہی جواب ہے کہ اس کو معجزہ دکھایا جاوے اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں ہوسکتا، (102) (۳) خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ تقسیم ملک سے دو تین سال قبل مسجد اقصیٰ میں تقریر میں ذیل کی روایت آپ سے سنی تھی جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی طفولیت کے متعلق تھی جو حضرت ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں مل گئی ہے یہ یہاں نقل کر دیتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں۔