اصحاب احمد (جلد 7) — Page 95
95 (90) ایسا ہے جیسا کہ اپنے تئیں آگ میں ڈالنا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔درحقیقت جب انسان اپنا آپ خدا کے لئے قربان کر دے تو تعجب مت کرو کہ اس سے خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہوتا ہے بلکہ تعجب اس میں ہے کہ اگر ایسی بھاری قربانی اور تبدیلی کے بعد بھی خدا کی آواز نہ سنائی دے اور عجیب کرشمہ قدرت اس سے ظہور پذیر نہ ہوں۔90 دھر میال کے مقابل پر بھی آپ نے اس امر کا ذکر اس کتاب کے حصہ چہارم (ص ۶۴ ) میں کیا ہے۔اس بارہ میں کچھ واقعات دیگر مقامات پر درج ہوئے ہیں۔چند ایک مزید یہاں بھی درج کر دیئے جاتے ہیں۔حکیم مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل واقف زندگی نے حضرت ماسٹر صاحب سے کہا کہ میں مولوی فاضل کی تیاری پوری طرح نہیں کر سکا اور جامعہ احمدیہ کے پرنسپل صاحب نے میرا داخلہ جامعہ کی طرف سے نہیں بھیجا کیونکہ فیل ہونے سے جامعہ کا نتیجہ خراب نظر آئے گا آپ استخارہ کریں تا خواہ مخواہ داخلہ ضائع نہ ہو۔میں نے دعا کی۔ایک رات ابھی تکیہ پر میں نے سر نہیں رکھا تھا کہ مجھے الہام ہوا کہ اور کوئی پاس ہو یا نہ ہو مگر محمد اسمعیل صاحب ضرور پاس ہو جائیں گے چنانچہ انہوں نے داخلہ بھیج دیا۔لیکن ان کے پرچے اچھے نہیں ہوئے اس لئے وہ بددل ہو کر بعد امتحان کام کاج کے سلسلہ میں قادیان سے باہر چلے گئے۔نتیجہ جو یونیورسٹی کی طرف سے آیا کئی مقامات سے چکر کھا تا ہوا انہں ملا اور وہ اپنی کامیابی پر بہت حیران ہوئے۔(قلمی مسودہ ) خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حکیم صاحب مکرم خاکسار کے ہم جماعت اور دوست ہیں۔جامعہ احمدیہ کے پہلے سال کا امتحان دے کر اپنے وطن انبالہ چلے گئے اور پھر آٹھ ماہ بعد دسمبر میں جلسہ سالانہ پر آئے اور میرے بار بار کے اصرار پر کہ اب صرف چند ماہ کی بات ہے اور میں پڑھائی میں مدد دوں گا وہ امتحان کی تیاری کے لئے آمادہ ہوئے۔ڈیڑھ دو ماہ بعد داخلہ بھیجوانا تھا اس لئے اتنی قلیل مدت میں منطق۔فلسفہ وغیرہ کی تیاری نہ ہوسکی تھی۔اس لئے ان کا ارادہ تھا کہ امتحان اگلے سال دوں پھر استخارہ کے بعد انہوں نے داخلہ دے دیا اور مولوی فاضل کے قادیان کے پرائیویٹ طلباء میں حکیم صاحب اور خاکسار جامعہ میں اول اور یونیورسٹی میں غالبا دوم درجہ پر کامیاب ہوا تھا۔اب حکیم صاحب جامعہ ربوہ میں پروفیسر ہیں۔ایک دفعہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ماسٹر صاحب کے سپر د ایک ایسی جماعت ہوئی جو انگریزی میں بہت کمزور تھی اور آپ کو اندیشہ ہوا کہ انسپکٹر مدارس بوقت معائنہ آپ کی سروس بک میں ریمارکس نہ دیں آپ نے استغفار کر کے دعا کی تو آپ کو خواب میں بتلایا گیا کہ صرف چھبیسویں اور تیسویں سبقوں میں جماعت کا امتحان ہوگا چنانچہ ایک طالب علم جو مکان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کے ذریعہ تمام جماعت کو کہلوا دیا کہ یہ اسباق