اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 95 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 95

95 مقاطعہ کرانے کے لئے دستخط کرانے میں مصروف ہیں جو دستخط نہ کرے یا تامل کرے تو ا سے زدوکوب بھی کرتے ہیں۔غلط عقائید جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔(55) ۳۔بطور ہیڈ ماسٹر تعین : میدان ارتداد سے واپسی پر آپ کو مدرسہ تعلیم الاسلام کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔چنانچہ مرقوم ہے: مکرمی قاضی محمد عبد اللہ خاں صاحب انسداد ارتداد کے صیغہ سے اپنے اصلی کام ہیڈ ماسٹری مدرسہ تعلیم الاسلام پر واپس ہو گئے ہیں اور قادیان تشریف لے آئے ہیں۔۱۷/ اپریل ۲۴ء کو مسلم گروپ کے طلباء نے ان کو ایک ایڈریس دیا۔جس میں ان کی خدمات کا اعتراف (تھا) طلباء نے نہایت عمدہ پیمانہ پر حاضرین کی روزہ کشائی کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔حضرت اقدس بھی تشریف فرما تھے۔“ (56) ۴۔انگلستان میں تبلیغ : قاضی محمد عبد اللہ صاحب کو حضرت مسیح موعود کے حضور ۱۹۰۷ء میں زندگی وقف کرنے اور پھر بعد میں کم و بیش پانچ سال تک انگلستان میں تبلیغ کرنے کی توفیق ملی۔اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب خلافت ثانیہ سے بغاوت کر کے الگ ہو چکے تھے۔آپ کے متعلق مؤقر الحکم رقمطراز ہے: وو۔۔۔اب دوسرا مبلغ لنڈن کو روانہ کیا جارہا ہے۔۔۔وہ نوجوان جس کے حصہ میں اس خدمت کی سعادت آئی ہے۔قاضی عبد اللہ بی۔اے بی۔ٹی ہے۔۔۔وہ بھی ایک نوجوان اور مدرسہ تعلیم الاسلام کا فرزند ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ انتخاب بھی بابرکت ہوگا۔حضرت خلیفہ ثانی نے خدا تعالیٰ پر توکل کا عجیب نمونہ دکھایا ہے۔اگر محض اسباب پر بھروسہ ہوتا تو شاءید قاضی عبد اللہ کی جگہ کوئی گرم و سرد روزگار چشیدہ بزرگ بھی مل جاتا۔مگر جس نو جوان کو یہ جوان ہمت بھیج رہا ہے۔اسے شاید پہلی مرتبہ لندن ہی میں تبلیغ واشاعت کیلئے زبان کھولنے کا اتفاق ہوگا۔حضرت خلیفہ ثانی فرمایا کرتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔وہ آپ ان لوگوں کو ہر قسم کی طاقت دے گا۔غرض قاضی عبد اللہ جو * مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے ایک مدرس ماسٹر علی محمد صاحب مسلم نے بچوں کی ایک انجمن بنام مسلم گروپ قائم کی تھی جن میں بچوں کی تقریر کرنے کی مشق کروائی جاتی تھی۔ماسٹر صاحب موصوف آج کل منٹگمری شہر ( موجودہ ساہیوال ) میں قیام رکھتے ہیں۔