اصحاب احمد (جلد 6) — Page 78
78 ہونہار اور تعلیم یافتہ بچی اپنی شادی کے چند ماہ بعد وفات پاگئی۔آپ کو خواب میں کسی نے کہا ” انسان کا کیا ہے۔دو ماہ رہ گئے ہیں چنانچہ مرحومہ بچی کی وفات کے پورے ایک سال دس ماہ بعد یعنی جب دو سال ہونے میں دو ماہ باقی تھے۔آپ کی وفات ہوئی۔ایک دن شلغم کے سالن سے کھانا کھانے کے بعد دودھ پی لیا۔جس سے پیٹ میں شدید درد ہوا۔گیارہ دن فریش رہیں۔سو نہ سکتی تھیں۔حرکت قلب میں فرق آ گیا۔اور آخر۱۳/۱۲ نومبر ۱۹۵۰ء کی درمیانی شب کو ہم مقام راولپنڈی جہاں ہجرت کے بعد سے قیام تھا۔اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔آپ کے خاوند دوسرے روز پہنچ سکے۔انا للہ و انا الیه راجعون۔اس وقت آپ کی عمر قریباً بہتر (۷۲) سال کی تھی۔آپ کے پوتے اخویم نصیر احمد صاحب کے ایک اعلان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحومہ کی وفات ۳ بجے صبح واقع ہوئی تھی۔(41) قادیان کی یاد میں آپ یہاں تک بے تاب رہتی تھیں کہ وفات سے آدھ گھنٹہ پہلے انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی تھی۔یا اللہ ! قادیان لے چل“ آپ کو تابوت میں راولپنڈی میں دفن کر دیا گیا تھا۔جب جنوری ۱۹۵۴ء میں قاضی عبدالسلام صاحب مشرقی افریقہ سے پاکستان آئے تو تابوت نکلوا کر ربوہ لے گئے۔اس وقت قاضی عبدالرحیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وفات پا کر وہاں بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں دفن ہو چکے تھے۔ان کے بالکل پہلو میں مرحومہ محترمہ کی تدفین عمل میں آئی۔مرحومہ کا دودفع جنازہ راولپنڈی میں پڑھا گیا۔ایک دفعہ درویشان قادیان نے پڑھا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ یکم دسمبر ۱۹۵۰ء کو بعد نماز جمعہ آپ کا جنازہ غائب کوئی ڈیڑھ ہزار کے مجمع سمیت پڑھا تھا۔اور بڑی لمبی دعا فرمائی تھی۔اب ربوہ میں تابوت لانے پر قاضی عبدالسلام صاحب کے عرض کرنے پر حضور نے از راہ ذرہ نوازی ظہر کی نماز کے بعد مسجد مبارک کے صحن میں جہاں تابوت تھا۔دوبارہ جنازہ پڑھایا۔حضور جیسے مظہر و مقدس وجود کی دو دفعہ کی دعائیں یقین ہے کہ آپ کی مغفرت اور رفع درجات کا باعث ہوئی ہوں گی۔اللهم اغفر لها وارحمها وادخلها في جنة النعيم۔آمين