اصحاب احمد (جلد 6) — Page 77
77 ایدہ اللہ تعالیٰ کی تصویر سامنے آگئی۔اور حضور نے فرمایا: مجھے تن تنہا پر سلیمان کی طرح اتنا بوجھ ڈال دیا۔اب اس کا کون ہے (یا کون ہوگا۔ایسا ہی کوئی لفظ تھا) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سُن کر فرمایا کہ یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کے مطابق ہے۔جس میں ہمیں آل داؤد فرمایا گیا ہے۔آپ اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے عاشقانہ رنگ کی محبت رکھتی تھیں ایک دن گھر واپس آئیں تو کہنے لگیں کہ قصر خلافت کے پاس کی گلی سے نکلتے ہوئے مجھے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب( جو اس وقت بچے تھے ) ملے۔میں نے السلام علیکم کہہ کر شاید ایک یا دو روپے جیب میں تھے۔جو ان کو بطور نذر پیش کر دئیے اور انہوں نے قبول کر لئے۔اور بڑی خوش تھیں۔حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا جیسا کہ حضرت ممدوحہ کی عادت تھی بڑی بے تکلفی سے آپ کے ہاں کبھی کبھی تشریف لے آتیں تو آپ بے حد خوش ہو تیں اور ضرور کچھ نہ کچھ نذر کے طور پر پیش کرتیں اور پھر بہت خوش ہو تیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ برکت بخشی ہے۔قرآن مجید کی تلاوت باقاعدگی سے کرتیں اور ان کا معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی کتاب ”حزب المقبول سے دعائیں کرتیں۔اور بڑے درد سے ان دعاؤں کو پڑھتیں۔چنانچہ بچپن میں بچوں نے ان سے سن سن کر دعائیں یاد کر لی تھیں۔آپ کو ڈرمین اور کلام محمود کی دعائیں بھی ترنم سے پڑھنے کی عادت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کوٹن میں ہو گیا زارونزار (40) لفظ ” ہو گیا“ کو ” ہوگئی“ سے بدل کر اپنی تکلیفوں کے وقت پڑھتی تھیں۔۱۹۱ء کے قریب کی بات ہوگی کہ دار العلوم میں صدر انجمن احمدیہ کے کوارٹروں میں رہائش تھی۔آپ کی شدید خواہش تھی کہ ہمارا اپنا مکان ہو۔چنانچہ آپ مغرب کی نماز کے بعد بچوں کو مصلی پر جمع کرلیتیں اور ہاتھ اٹھوا کر اس مقصود کے پورا ہونے کیلئے دعا کرواتیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور مکان بلکہ کوٹھی عطاء کی۔قادیان میں تنگی کے اوقات آپ نے سلیقہ مندی اور کفایت شعاری سے گزارے۔نہایت صابر اور قانع طبیعت پائی تھی۔بڑی عزت اور وضعداری کے ساتھ اپنے کنبہ کو سنبھالے رکھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فراخی دی مگر طبیعت ویسی ہی غریبانہ رہی۔گھر میں شروع ہی سے دو دھیل بھینس وغیرہ رکھنے کا شوق تھا۔نہایت ہی سلیقہ سے جانور کو رکھتیں۔بڑی محنت اور صفائی سے سب کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادت تھی۔قادیان میں اللہ تعالیٰ نے انہیں رکھنے کیلئے اپنے کشادہ مکان دیئے تھے۔جن کے ساتھ باغیچے تھے۔ان کی دیکھ بھال کا انہیں خوب شوق تھا۔آپ نے اپنی ایک پوتی محترمہ امتہ العزیز سعیدہ صاحبہ کو بیٹی بنا کر اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔یہ جواں سال