اصحاب احمد (جلد 6) — Page 76
76 صاحب کی بیعت کر آؤ اور انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عریضہ بھی لکھ بھیجا تھا۔“ آپ کی شادی غالبا ۹۹ - ۱۸۹۸ء میں ہوئی تھی۔آپ کے والد میراں بخش سکنہ موضع مہاراجکے ضلع گوجرانوالہ حضرت قاضی صاحب کے زیر اثر ہونگے۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے بیعت کر لی تھی یا نہیں۔بیان قاضی محمد عبد الله ) قریباً چار ماہ کے اندر تمبر 1901ء کے لگ بھگ قاضی عبدالرحیم صاحب بھی ہجرت کر آئے۔لیکن جنوری ۱۹۰۳ء میں آپ کی اسامی تخفیف میں آنے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔چنانچہ آپ ریویو آف ریلیجنز کی فرم شکنی وغیرہ کرتے تھے اور آپ کی سعادت مند رفیقہ حیات ایسے کام میں آپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔اور صبر کا دامن تھامے بصد شکر ساری تنگی ترشی برداشت کر رہی تھیں۔چونکہ یہاں کوئی مناسب صورت روزگار کی نہ تھی۔حضرت اقدس نے اجازت مرحمت فرما دی تھی کہ اچھی ملازمت ملنے پر باہر جانے سے ہجرت میں کوئی حرج لازم نہیں آتا۔چنانچہ ۱۳ جنوری ۱۹۰۴ء کو آپ تلاش روزگار کے لئے جموں چلے گئے۔۳۰ مارچ کو ملازمت میسر آئی تھی کہ مئی میں والد ماجد رحلت فرما گئے۔گویا نگران کوئی نہ رہا۔دونوں بچے بالکل ننھے تھے۔دوسرا بچہ قاضی عبد السلام دسمبر ۱۹۰۲ء میں پیدا ہوا تھا۔حضرت مولوی نورالدین (خلیفہ اول) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو تلقین کی کہ آپ اپنے اہل و عیال کو اپنے پاس رکھیں۔چنانچہ آپ اہل وعیال کو ۳۰ جولائی کو اپنے پاس جموں لے گئے۔حضرت اقدس کے سانحہ ارتحال (۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) سے قبل آپ کو مع اہل وعیال دوبارہ قادیان مستقل طور پر آجانے کا موقعہ مل گیا تھا۔اس طرح گویا ان ۱۹ء سے ۱۹۴۷ء کے مابین کم و بیش بیالیس سال تک قادیان جیسی مقدس بستی کی برکات سے متمتع ہونے کا مرحومہ کو موقعہ ملا۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ - آپ ابتدائی موصیوں میں سے تھیں۔آپ کا وصیت نمبر ۳۷ تھا۔نہایت عبادت گزار اور اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کرنے والی اور بہ برکت غلامی مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام سچے خواب اور کشف والہام کی لذت سے آشنا تھیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے قادیان میں صدر انجمن احمدیہ کی طرف قاضی عبدالرحیم صاحب کی کوئی رقم تھی اور کسی وجہ سے موصول نہیں ہورہی تھی۔والدہ صاحب کو بتایا گیا کہ ہمارے گماشتہ کو کہو گماشتہ کے معنی نہیں جانتی تھیں۔لیکن غالب تفہیم میں اشارہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف تھا۔چنانچہ اگلے دن حضور کی خدمت میں قاضی صاحب کا عریضہ لے کر گئیں اور اس کے نتیجے میں اس دن یا اگلے دن رقم موصول ہوگی۔ایک دن نماز جمعہ کے وقت گھر میں ظہر کی نماز ادا کر رہی تھیں کہ سجدہ سے سر اٹھاتے وقت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی * الحدید - آیت نمبر ۲۲