اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 68 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 68

68 دو ” جب مینار کی بنیاد پڑ رہی تھی تو مجھے خیال آتا تھا کہ کاش یہ منارہ میں بنوا تا۔لیکن یہ خیال اور ایسی خواہش اس وقت ایک وہم سے زیادہ حیثیت نہ رکھتی تھی۔خلافت ثانیہ کے ابتداء میں پھر تعمیر جاری ہوئی۔پہلے عمارت صحن مسجد سے سات فٹ اونچی ہو چکی تھی۔اور بقیہ حصہ خاکسار کے ہاتھوں سے پورا ہوا۔منارہ اور فرش صحن مسجد اور ٹنل (Tunnel) کنواں وغیرہ یعنی زمین دوز راسته بطرف کنوآں پر۔۵۹۶۳۔RS صرف ہوا تھا۔میں اس مولا پر قربان جاؤں کہ اس نے میری خواہش کو کس طرح پورا کیا۔یہ سراسر خدا کا فضل ہے کہ اس نے میرے ہاتھ سے یہ خدمت لی۔“ سلسلہ و بزرگان کی تعمیرات : آپ فرماتے تھے کہ جب میں (۱۹۰۴ء میں ) جموں ملازمت کے لئے چلا گیا تو حضرت اقدس کی جدائی کی وجہ سے ہر وقت میرے دل میں ایک جلن سی رہا کرتی تھی۔اور باہر کی ملازمت میرے لئے باعث مسرت نہ تھی۔قادیان میں آجانے کے لئے میں سوچتا رہتا تھا کہ کوئی صورت پیدا ہو۔لیکن سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا۔اس مقصد کے پیش نظر میں نے کتابت کا کام بھی سیکھا کہ شاید اس کام کیلئے وہاں ضرورت ہو تو جاسکوں۔آخر خدا تعالیٰ نے میری سنی اور مجھے عزیز برادر قاضی محمد عبد اللہ صاحب نے اطلاع دی کہ قادیان میں محکمہ تعمیرات جاری ہونے والا ہے۔چنانچہ میں نے اپنی خدمات پیش کیں اور محر رتعمیرات کی اسامی میرے لئے تجویز ہوئی اور آخر مہتم تعمیرات تک نوبت پہنچی۔اور آٹھ سال تک مجھے خدمت کا موقعہ ملا۔میں اپنے ذوق کے مطابق خیال کیا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن کر ہی قادیان میں تعمیرات کا سلسلہ شروع کرایا اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سلسلہ کی سب عظیم الشان بنیادی عمارات تعلیم الاسلام ہائی سکول۔بورڈنگ ہائی سکول۔ملحقہ کوارٹرز۔مسجد نور۔منارۃ المسیح اور مسجد اقصیٰ کا وہ حصہ جو ڈاٹوں والی چھت سے مستقف ہے اور نیز اس مسجد میں کنویں اور پانی کے انتظام کو فرش مسجد کے نیچے لے جانے کی صورت۔سب میرے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے تعمیر کرائیں۔نیز بہشتی مقبرہ کے راستہ کا پل جس کا ذکر الوصیت میں ہے اور چاہ بہشتی مقبرہ کی میری ہی نگرانی میں تعمیر ہوئی۔اور بالآ خر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک کی تعمیر بوقت تدفین کا شرف بھی مجھے ہی ملا۔اور آٹھ سال تک میں ہی نگران بہشتی مقبرہورہا " خلافت ثانیہ میں منارة امسیح کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔جس میں آپ مصروف رہے۔بعد ازاں حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے اپنی تعمیرات کا کام آپ کے سپر د کر دیا۔پھر کچھ عرصہ تک قاضی صاحب *