اصحاب احمد (جلد 6) — Page 24
24 کیونکہ یہ پیشگوئی قبل از وقوع جنگ مقدس میں درج ہو چکی تھی۔جیسا کہ حضور کی عبارت سے بھی ظاہر ہے۔پیشگوئیوں کے گواہ: نزول مسیح میں حضرت اقدس نے بہت سی پیشگوئیاں درج کر کے ان کے گواہوں کے اسماء بھی درج فرمائے ہیں۔چنانچہ چار میں قاضی صاحب کا نام بھی درج ہے۔ان احباب کا حضرت اقدس کی طرف سے بطور گواہ ذکر کیا جانا ان احباب کی عظمت پر دال اور ان کے لئے باعث افتخار واکرام ہے۔پیشگوئی نمبر ۴۶ تاریخ بیان پیشگوئی ۱۸۸۰ء میں حضور فرماتے ہیں : انی مهین من اراد اهانتک یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کریگا۔یہ ایک نہایت پر شوکت وحی اور پیشگوئی ہے۔جس کا ظہور مختلف پیرایوں اور مختلف قوموں میں ہوتا رہا ہے۔اور جس کسی نے اس سلسلہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کی وہ خود ذلیل اور نا کام ہوا۔مثلاً مولوی محمد حسین نے کپتان ڈگلس کے روبرو میرے برخلاف گواہی دی۔اور میری تو ہین چاہی تو اس کو کرسی کے مانگنے پر ڈپٹی کمشنر نے سخت جھڑ کا اور ذلیل کیا۔جب مخالف مولوی لوگوں نے مجھے جاہل کہا۔تو خدا نے مجھے ایسی عربی فصیح بلیغ کتابیں لکھنے اور مقابلہ کے لئے سب کو پہن کرنے کی توفیق دی کہ آج تک کوئی مولوی جواب نہیں دے سکا۔پیر مہر علی شاہ نے میری اہانت چاہی تو اول اعجاز اسیح کا جواب عربی میں نہ لکھنے پر وہ ذلیل ہوا۔اور پھر ایک مردہ کی تحریرات اپنے نام پر بطور سرقہ شائع کر کے ذلیل ہوا۔اور کیسا ذلیل ہوا کہ چوری بھی کی اور وہ بھی نجاست کی چوری۔کیونکہ محمد حسن مردہ کی کل تحریر غلط تھی اور مہر علی اس کا چور تھا۔اس چوری سے کیا ذلتیں اُٹھا ئیں۔(۱) اول مردہ کے مال کا چور (۲) دوسرا چونکہ مال سب کھوٹا تھا۔اس لئے دوسری ذلت یہ ثابت ہوئی کہ علمی رنگ میں بصیرت کی آنکھ ایک ذرہ اس کو حاصل نہیں تھی (۳) تیسری یہ ذلت کہ سیف چشتیائی میں اقرار کر چکا کہ یہ میری تصنیف ہے۔بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ جھوٹا کذاب ہے۔یہ اس کی تصنیف نہیں بلکہ محمد حسن متوفی کی تحریر ہے۔جو مر کر اپنی نادانی کا نمونہ چھوڑ گیا۔مہر علی نے خواہ مخواہ اس کی پیشانی کا سیاہ داغ اپنے ماتھے پر لگا لیا۔لگا مولوی بنے اگلی حیثیت بھی جاتی رہی۔یہی پیشگوئی تھی کہ انی مهین من اراداها نتک محمد حسن مردہ نے جبھی کہ میری