اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 23 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 23

23 تَنْشَقُ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا - اَنْ دَعَوُ الِلرَّحْمَنِ وَلَدًا۔* ایسے وقت میں کہ اس دیو عین کی مہیب اور خوفناک صدائے ھل من مبارز۔ھل من مبارز سے قلوب دہل رہے۔اور کلیجے منہ کو آ رہے تھے۔اور کوئی بھی اس کا حریف بننے کی طاقت نہ پاتا تھا۔اور پھر اسلام کے ستارے ماند نظر آتے تھے۔اور راسخ پہاڑ دھنگی ہوئی روئی کی طرح اڑ رہے تھے۔اسلام پر جب ایسا نازک وقت آچکا تھا۔تو حضرت مسیح موعود جیسے بطل جلیل نے اس دعوت مبارزت کو قبول کیا۔اس سے قبل براہ راست عیسائیت سے میدان مناظرہ میں نمٹنے کا موقعہ اس روح القدس کی قوت سے تائید یافتہ پہلوان کو میسر نہیں آیا تھا۔کہ جسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر خاص نے اس مہم کے سر کرنے کے لئے پیدا کیا تھا۔چنانچه مئی و جون ۱۸۹۳ء میں بمقام امرتسر یہ تقریب بھی پیدا ہوگئی۔جب کہ پندرہ دن تک حضرت اقدس کا عیسائیت کے نمائندہ ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ ہوا۔یہاں تفصیل کا موقعہ نہیں۔اس قدر ذکر کر دینا کافی ہے کہ پیشگوئی کے مطابق عبد اللہ آتھم ۲۷ جولائی کو بمقام فیروز پور طعمہ اجل بن گیا۔یہ دلائل اور نشان الہی عیسائیت پر ضرب کاری تھے۔اس مباحثہ کو احمدیت کی تاریخ میں خاص الخاص اہمیت حاصل ہے۔دلائل کے میدان میں بُری طرح عاجز آنے کے باعث بعد ازاں عیسائی مناظرہ سے پہلو تہی کرنے لگے۔اور حضور کو گزند پہنچانے کیلئے نا جائز وسائل اختیار کرنے پر اتر آئے۔مثلاً ۱۸۹۷ ء میں ڈاکٹر مارٹن کلارک نے حضوڑ کے خلاف اقدام قتل کا خطرناک لیکن سرتا پا جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حضور کو اس کے مکائد اور منصوبوں سے محفوظ ومصئون رکھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس تاریخی جہاد کے مشاہدہ کا موقعہ اور شرف حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کو بھی میسر آیا تھا۔حضور اس نشان کا نزول المسیح میں ذکر کر کے رقم فرماتے ہیں : عبد اللہ آتھم کے متعلق جو میں نے پیشگوئی کی تھی۔اس کا ثبوت اس رسالہ مباحثہ میں موجود ہے۔جس کا نام جنگ مقدس ہے۔اور اس سے ثابت ہے کہ یہ پیشگوئی کیوں کی گئی۔یعنی آتھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا۔اور پھر پیشگوئی کوسُن کر قریباً ستر آدمیوں کے رو برو رجوع کیا۔جن میں۔۔۔۔۔قاضی ضیاء الدین صاحب۔۔وغیرہ اس پیشگوئی کے گواہ ہیں“ طرز بیان سے ظاہر ہے کہ حضور نے ستر حاضرین میں سے ہیں احباب کے اسماء درج فرمائے ہیں جو کہ اس موقعہ پر موجود تھے۔ورنہ صرف پیشگوئی کی شہادت میں اسماء درج کرنے کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی