اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 139 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 139

139 (دوئم تا چهارم) چونکہ اپنی اولاد میں بھی انہوں نے احمدیت کے خلاف سخت معاندانہ خیالات راسخ کئے ہوئے تھے۔اس لئے ان کے بڑے لڑکے فیض اللہ خاں نے جو نائب تحصیل داری کا امید وار تھا۔وہ مسودہ شائع کرنے کی کوشش کی۔اور ساتھ ہی منشی مہتاب علی صاحب مرحوم کے ساتھ مباہلہ کیا۔یہ مباہلہ بمقام جنڈیالہ باغوالہ (ضلع گوجرانوالہ) میں ہوا تھا۔قاضی ظفر الدین کا بھانجا عظیم اللہ اس مباہلہ کا گواہ بنا تھا۔یہ بھی سخت مخالف تھا۔مباہلہ کی میعاد ایک سال مقرر کی گئی تھی۔اب غضب الہی کا ظہور اس طرح پر ہوا کہ پہلے سیف اللہ خان جو قاضی ظفر الدین کا چھوٹا لڑکا تھا۔طاعون میں مبتلا ہوا۔اس کی اطلاع جنڈیالہ (ضلع گوجرانوالہ ) سے جموں قاضی نظیر حسن صاحب کو کی گئی۔جو قاضی ظفر الدین کے چھوٹے بھائی اور وہاں محکمہ انجینئر نگ ( انہار ) میں ہیڈ ڈرافٹسمین تھے۔وہ جموں سے جنڈیالہ پہنچے۔لڑکا تو بچ گیا۔لیکن عظیم اللہ گواہ مباہلہ ) کو طاعون ہوگئی۔اور وہ آنا فانأمر گیا۔اس کو دفنا کر آئے تو قاضی ظفر الدین کی چھوٹی لڑکی کو طاعون ہوگئی اور وہ بھی فور أہلاک ہوگئی۔اسے دفنا کر آئے تو فیض اللہ خاں بن قاضی ظفر الدین کو (جس نے منشی مہتاب علی صاحب سے مباہلہ کیا ہوا تھا)۔طاعون نے آدبایا۔اس کو اسی حالت میں مع دیگر افراد خاندان جموں لے گئے۔وہاں پہنچ کر نہایت تکلیف اور کرب و اضطراب میں کئی دن مبتلا رہنے کے بعد مباہلہ کے پورے دس ماہ بعد یہ شخص طاعون سے ہلاک ہوا۔“ ضمناً قاضی عبدالرحیم صاحب فرماتے تھے کہ اگر چہ یہ ہمارا قرابتی تھا۔مگر میں نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔جب صندوق میں ڈال کر اسے قبرستان میں لے گئے تو یہ عصر کا وقت تھا۔مجھے انہوں نے اندھیرا ہو جانے کے خیال سے واپس شہر میں لیمپ لانے کیلئے بھیج دیا۔اور میرے پیچھے یک دم بارش ہوگئی اور قبرستان میں کوئی جائے پناہ بھی نہ تھی۔اس لئے انہوں نے جلدی سے جنازہ پڑھ پڑھا کر میرے واپس آنے تک اسے دفن کر دیا۔جب میں پہنچا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں پتہ تھا کہ آپ نے جنازہ * قاضی بشیر احمد صاحب اپنی والدہ صاحبہ سے روایات کرتے ہیں کہ قاضی ظفر الدین طاعون میں مبتلا ہو گئے تھے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے اگر یہ امر درست ہو کہ وہ لمبے عرصہ تک بیمار رہے تو پھر سلن کی مرض ہوگی۔جوطول بھی پکڑ لیتی ہے۔طاعون کی مرض طول نہیں پکڑتی۔قاضی عبدالرحیم صاحب کے روز نامچہ میں قاضی ظفر الدین کی تاریخ وفات یکم دسمبر ۱۹۰۴ ء مرقوم ہے