اصحاب احمد (جلد 6) — Page 140
140 نہیں پڑھنا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے میرے ارادہ کے کامیاب ہونے کے سامان پیدا کردئیے۔“ (پنجم ) ” بعد ازاں قاضی نظیر حسن صاحب کی اپنی بھا وجہ ( بیوہ قاضی ظفر الدین ) سے ناچاقی ہوگئی۔وہ اپنے بیٹے فیض اللہ خاں کا تابوت اپنے گاؤں جنڈیالہ لے جانا چاہتی تھی۔لیکن قاضی نظیر حسن صاحب اس طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔آخر اس نے تنگ آ کر خود ہی کسی کو اپنے بیٹے کا تابوت لانے کیلئے بھیج دیا۔وہ شخص تابوت نکال کر لے گیا۔لیکن وہ بہت وزنی تھا۔اس لئے راستہ میں اس نے اسے کھولا۔اور ہڈیاں وغیرہ نکال کر کپڑے میں باندھ کر جنڈیالہ جا پہنچا۔اور تابوت میں مٹی اور کچھ ہڈیاں پیچھے چھوڑ آیا۔یہ اس شخص کی لاش کا انجام ہوا جس نے مباہلہ کیا تھا۔(ششم) ” قاضی ظفر الدین کا چھوٹا لڑکا سیف الدین جو طاعون سے بیچ رہا تھا۔اس نے بی۔اے پاس کیا اور تعلیم ختم کر چکا تو سوزاک کے خبیث مرض میں مبتلا ہو گیا۔تب اس کا یہ شغل تھا کہ اپنے باپ کی لائبریری میں سارا دن طبلہ اور سارنگی سننے سنانے میں گزارتا۔گاؤں کے عمر رسیدہ لوگ تعجب کرتے۔اور اسے کہتے تمہارا باپ کتنا بڑا عالم تھا۔اور تمہارا یہ شغل ہے۔تو وہ کہتا کہ طبیبوں نے میرے مرض کا مجھے یہی علاج بتایا ہے۔آخر اسی عبرت ناک حالت میں وہ بھی مر گیا۔(ہفتم ) قاضی ظفر الدین کی بیوی بوجہ اس کے کہ یہ خاندان بڑا ذی وجاہت تھا۔پردہ کی سخت پابند تھی۔مگر بیوہ ہوگئی تو خاوند کے بھائی قاضی نظیر حسن صاحب کے ساتھ ناچاقی ہوگئی تھی۔اس لئے اسے اپنی اراضی کی نگرانی وغیرہ کیلئے غیروں کا دست نگر ہونا پڑا۔اور لاہور کے ایک ڈاکٹر سے استمداد کے بہانے سے میل جول شروع کیا۔اس سے لوگوں میں اس کی بدنامی کی شہرت ہوگئی اور ایک عرصہ تک ایسی خواری کی زندگی بسر کرنے کے بعد وہ بھی طاعون کا شکار ہوئی۔قاضی نظیر حسن صاحب اپنے برادر زادہ فیض اللہ خاں کا انجام دیکھ کر احمدی ہو گئے تھے۔اور قاضی عبدالرحیم صاحب سے شکوہ کیا کرتے تھے کہ فیض اللہ خاں کے مباہلہ کا مجھے کیوں علم نہ دیا گیا۔ورنہ میں اسے سمجھا تا اور توبہ کر لیتا۔اور اس کی جان بچالیتا۔قاضی نظیر حسن صاحب خلافت ثانیہ سے