اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 116 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 116

116 اس وقت گاؤں کے کچھ ہندو اور آریہ بھی آ کھڑے ہوئے تھے۔اس لئے حضور نے اپنی اس تقریر میں ان کو بھی تبلیغ فرمائی۔اس کے بعد فرمایا کہ اب ہماری حالت الہام کی طرف منتقل ہونے لگی ہے۔اس لئے دو اصحاب کاغذ اور قلم دوات لے کر بیٹھ جائیں اور جو کچھ ہم بولتے جائیں وہ لکھتے جائیں۔اگر کوئی لفظ پوچھنا ہو تو اسی وقت پوچھ لیں۔پھر نہیں بتایا جاسکے گا۔چنانچہ حضرت اقدس نے عربی زبان میں فصیح و بلیغ تقریر کرنی شروع کر دی اور حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت عبد الکریم صاحب لکھنے لگ گئے اور جہاں کہیں کسی لفظ کا اشتباہ ہوتا تھا دہرا کر پوچھ لیتے تھے۔اور حضرت اقدس انہیں بتلا کر پھر آگے اصل مضمون بیان کرنا شروع کر دیتے تھے۔قاضی صاحب کا بیان ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب کو زیادہ الفاظ پوچھنے پڑتے تھے۔اور مولوی نور الدین صاحب کو ان کی نسبت کم الفاظ دریافت کرنے کی ضرورت پڑتی۔لیکن باوجود اس قدر علم وفضل کے بعض ایسے الفاظ بھی انہوں نے دریافت کئے کہ مثلاً یہاں س ہے یاض۔ز ہے یا ظ۔وغیر وغیرہ۔لیکن حضرت اقدس اس طرح آسانی کے ساتھ بتاتے جاتے تھے کہ گویا حضور کے سامنے لکھا ہوا موجود ہے۔اور حضور اس کو پڑھتے جارہے ہیں۔حضور کا چہرہ اس وقت نہایت تاباں و درخشاں تھا۔اور جلال آ گیا تھا۔وہ بیماری کا ضعف اور رنگ کی زردی دور ہو گئی تھی۔جب خطبہ ختم ہوا تو حضور اس طرح بیٹھے کہ جیسے ایک کمزور اور ضعیف انسان تھک کر بیٹھتا ہے۔اور حضور کے جسم کو دبانا شروع کیا گیا۔حضور کی وہ حالت ربودگی اور بے خودی کا رنگ رکھتی تھی۔اور حضور بے اختیار ہو کر بول رہے تھے۔یہاں تک کہ حضور نے خاتمہ تقریر کے بعد اس لکھی ہوئی تقریر کو ملاحظہ کے واسطے طلب فرمایا۔اور نہایت خوشی سے اس کو دوبارہ پڑھا۔اور اس کو خوش خط لکھوانے اور کوشش سے چھپوانے کے واسطے انتظام فرمایا۔چنانچہ غالبا صفحہ ۳۸ تک کا حصہ مطبوعہ خطبہ میں وہی ہے جو اس وقت حضرت اقدس نے کھڑے کھڑے بصورت الہام فرمایا۔اور اما بعد سے آگے کا حصہ تصنیف بعد میں تحریر فرمایا۔“ خاکسار مؤ لف عرض کرتا ہے کہ خطبہ الہامیہ والی عیدا/ اپریل ۱۹۰۰ء کو ہوئی تھی۔