اصحاب احمد (جلد 6) — Page 114
114 تھے۔مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو کہ نہایت اعلیٰ درجہ کے فاضل تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا کر اخلاص میں بہت ہی بڑھ گئے ہوئے تھے وہ بھی اس دستر خوان پر کھانا کھا رہے تھے۔چونکہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کے دانت نکل چکے ہوئے تھے۔اس لئے کسی قدر تکلیف سے کھانا کھاتے تھے۔اور میں بھی دانت نکل جانے کی وجہ سے تکلیف سے روٹی کھا رہا تھا۔حضور نے ہم دونوں کی اس تکلیف کو دیکھ کر کھانا پکانے والے خادم سے جو وہیں موجود تھا۔فرمایا کہ قاضی صاحب کو روٹی چبانے میں تکلیف ہورہی ہے۔اس لئے ایسے مہمانوں کے لئے چاولوں کا یا نرم روٹی کا انتظام کر دیا کریں اور ساتھ ہی مولوی برہان الدین صاحب کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مولوی صاحب کے بھی دانت تو نہیں۔لیکن یہ تجربہ کار معلوم ہوتے ہیں۔اور اپنے تجربہ کے ذریعہ سے کسی قدر سہولت پیدا کر لیتے ہیں۔لیکن قاضی صاحب ابھی نا تجربہ کار ہیں۔“ مولوی محمد عبد اللہ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ اس واقعہ سے ایک تو یہ پایا جاتا ہے کہ حضرت اقدس کو اپنے مہمانوں کی خاطر مدارت اور ان کی ذرا ذراسی تکلیف کا کس قدر احساس ہوتا تھا کہ بغیر کسی کے اظہار تکلیف کے خود بخود ان کی آسانی اور آرام کا انتظام فرما دیتے۔دوسرے یہ کہ مولوی برہان الدین صاحب چونکہ خوش طبع انسان تھے۔اس لئے ان کی تکلیف کا اظہار بھی خوش طبعی کے رنگ میں فرمایا۔اور بعض اوقات ( حضور ) اپنے احباب کے ساتھ بے تکلفانہ مذاق کر کے ان میں بھی شگفتگی پیدا کر دیتے تھے۔(۷) مولوی عبد اللہ صاحب بوتا لوی تحریر کرتے ہیں کہ : قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے خاکسار سے خطبہ الہامیہ کے سنانے کا واقعہ اپنے مشاہدہ کے رُو سے مفضل سنایا تھا۔اگر چہ یہ واقعہ مشہور ہے اور روز روشن میں کئی لوگوں کے سامنے ظہور میں آچکا ہے۔لیکن ہر ایک دیکھنے اور سننے والا اپنے مذاق کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اور پھر اپنے مذاق کے رنگ میں ہی دوسروں کے آگے بیان کرتا ہے۔اس لئے قاضی صاحب مرحوم کا بیان کردہ حال جہاں تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔اس جگہ تحریر کر دیتا ہوں۔ممکن ہے کہ کوئی حصہ اس کا شائع شدہ حالات سے زائد ہو۔اور اس کا اظہار دوسروں کیلئے مفید ہو۔